Urdu book · راہِ عمل

سبب کے بجائے مرض

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

پرسنل لاء بورڈ کے مطابق طلاق کے بعد شوہر پر نفقہ دینا تاحیات لازم نہیں، اس لیے سینکڑوں عورتیں اس طرف ہندو مذہب اختیار کر رہی ہیں۔ آپ کوشش کر کے ایسا قانون بنوائیے جس کے ذریعے ہندو عورتوں کی طرح مسلمان عورتوں کو بھی طلاق کے بعد شوہر سے تاحیات نفقہ مل سکے۔ تاکہ مسلمان عورتیں بھی معاشرہ میں اچھی زندگی گزار سکیں ۔“ ( سہ روزہ دعوت 13 جولائی 1987ء) مسلم مطلقہ کے حقوق کے تحفظ کا بل جو ہنگامہ خیز تحریک کے بعد 6 مئی 1986ء کو ہندوستانی پارلیمنٹ سے پاس کرایا گیا تھا، عملاً وہ بالکل بے معنی ثابت ہوا۔ اس واقعہ کا اعتراف خود آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نویں اجلاس میں کیا گیا ہے جو کانپور میں 5-4 مارچ 1989ء کو منعقد ہوا تھا۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اپنے خطبہ صدارت میں اعتراف کیا کہ اس بل کے سلسلے میں ”مسلمانوں کی تاریخی بلکہ تاریخ ساز جدوجہد لا حاصل اور کوه کندن وکاه بر آوردن کا مصداق “ ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اور اندیشہ ہے کہ ” یہ پاس شدہ بل اوراق کی زینت بن کر رہ جائے گا۔“ اس بنا پر مولانا موصوف نے اس ضرورت کا اظہار کیا کہ دوبارہ نیا بل ترمیم شدہ شکل میں پاس کرایا جائے ۔ (تعمیر حیات، 25 مئی، 1989)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page