سبب کے بجائے مرض
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
راہِ عمل اسلام میں زندگی کا جو تصور دیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ اس دنیا کے بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہمیشہ عُسر کے ساتھ یُسر موجود رہتا ہے۔ ایک اعتبار سے اگر مشکل ہو تو دوسرے اعتبار سے آسانی بھی ضرور یہاں پائی جائے گی۔ یہاں وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ﴿5﴾ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ﴿6-94﴾ پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس دنیا میں اگر مسائل پائے جاتے ہیں تو عین اسی کے ساتھ یہاں ہمیشہ مواقع بھی موجود رہتے ہیں۔ بصیرت سے خالی آدمی ہمیشہ مسائل میں اُلجھا رہتا ہے۔ مگر جس آدمی کو خدا نے بصیرت کی روشنی دی ہو وہ مسائل سے گزر کر مواقع کو دیکھ لیتا ہے۔ وہ مسائل کو نظر انداز کر کے اپنی ساری توجہ مواقع کو استعمال کرنے پر لگا دیتا ہے۔ اسی کا نام اسلامی حکمت ہے۔ اسلامی حکمت عُسر میں یُسر کو دیکھتی ہے۔ اسلامی طریق کار کے اصول کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ مسائل کو بھوکا رکھو اور مواقع کو کھلاؤ: "Starve the problems, feed the opportunities." یہی وہ خاص تدبیر کار ہے جس کو قرآن میں اعراض کہا گیا ہے۔ اعراض کے معنی اجتناب کے ہیں، یعنی اوائڈ کرنا۔ براہ راست ٹکراؤ کے مقام سے ہٹ کر اپنے لیے کوششوں کا میدان پالینا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader