Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

اس اعراض کا تعلق ایک شخص کی ذاتی زندگی سے بھی ہے، اور پوری ملت کی اجتماعی زندگی سے بھی۔ آپ اپنے راستے پر چلے جا رہے ہیں۔ درمیان میں ایک شخص آپ کو مشتعل کرنے والی حرکت کرتا ہے۔ آپ اس سے مشتعل نہیں ہوتے، اور اس کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں، یہ ذاتی زندگی کا اعراض ہے۔ اعراض کے اس اصول پر جو شخص عمل نہ کرے وہ ہمیشہ نادانوں کی نادانی کا شکار ہوتا رہے گا، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح ملت کی زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ کوئی خارجی مسئلہ ایک اشتعال بن کر اس کے سامنے آتا ہے۔ مثال کے طور پر حکمرانوں کا سیاسی بگاڑ۔ ایسے مواقع پر تمام رہنما یہ کرتے ہیں کہ وہ اصلاح سیاست کے نام پر حکمرانوں سے لڑ جاتے ہیں۔ مگر یہ اسلام کا طریقہ نہیں۔ یہاں بھی اسلامی طریقہ یہی ہے کہ اعراض سے کام لیا جائے ۔ اور سیاسی ٹکراؤ سے اجتناب کرتے ہوئے دوسرے میدانوں میں اپنی کوششوں کو وقف کر دیا جائے۔ سیاسی ٹکراؤ سے سماج میں تخریبی سرگرمیاں جنم لیتی ہیں۔ اس کے برعکس ، اگر اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے تو سماج کے اندر تعمیری سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے سیاسی ٹکراؤ کو چھوڑ کر تعمیری میدان میں سرگرم ہونے کا حکم دیا ہے۔ پیغمبر اسلام کی ہدایت حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حکومت سے نزاع کرنے کو منع فرمایا : حضرت عبادہ بن الصامت انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی تو اس میں ہم سے جن چیزوں کا عہد لیا، اس میں ایک یہ بھی تھا کہ ہم اصحاب امر سے جھگڑا نہیں کریں گے : وَعَلی اَنْ لَّا تُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7055)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page