پیغمبر اسلام کی ہدایت
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكِ الْأَشْجَعِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يقولو شِرارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ. قَالُوا : قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ لَا ، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ ، لَا ، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ - ( صحيح مسلم ، حدیث نمبر 1855) یعنی عوف بن مالک الاشجعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ بہت برے امیر ہیں جو تم سے نفرت کریں اور تم ان سے نفرت کرو۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، جب ایسا ہو تو کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، جب تک وہ تمہارے درمیان نماز کو قائم رکھیں، نہیں جب تک وہ تمہارے درمیان نماز کو قائم رکھیں۔ عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تم بہت سی برائیاں اور حکومت میں بگاڑ دیکھو گے۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، آپ اس وقت کے لیے ہم کو کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ان کا حق انہیں ادا کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ ۔ ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 7052) وائل بن حجر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہمارے اوپر ایسے حکمران قائم ہو جائیں جو اپنا حق ہم سے مانگیں اور ہمارا حق ہم کو نہ دیں۔ تو ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ سنو اور اطاعت کرو، کیوں کہ ان کے اوپر ان کی ذمہ داری ہے اور تمہارے اوپر تمہاری ذمہ داری : اِسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ - (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2199)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader