Urdu book · راہِ عمل

پیغمبر اسلام کی ہدایت

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص اپنے امیر کی طرف سے ایسی بات دیکھے جو اس کو ناپسند ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اس پر صبر کرے۔ من رأی من أميره شيئاً يكرهه فليصبر عليه۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6646) ۔ إِذَا عَدَلَ السُّلْطَانُ فَعَلَى الرَّعِيَّةِ الشُّكْرُ، وَلِلسُّلْطَانِ الْأَجْرُ۔ وَإِذَا جَارَ فَعَلَى الرَّعِيَّةِ الصَّبْرُ، وَعَلَى السُّلْطَانِ الْوِزْرُ۔ (شرح السیر الکبیر: للسرخسی، صفحہ 158) یعنی عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلطان اگر عدل کرے تو اس کی رعایا کو چاہیے کہ وہ شکر کرے اور اگر وہ ظلم کرے تو رعایا کو چاہیے کہ وہ صبر کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کا مطلب بے عملی نہیں، وہ عین عمل ہے۔ وہ انفعالیت نہیں بلکہ فعالیت کا سبق دیتی ہے۔ وہ حکمتِ عمل ہے، نہ کہ ترکِ عمل ۔ وہ پسپائی نہیں بلکہ اقدام کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت، سماج کے تابع ہوتی ہے، نہ کہ سماج حکومت کے تابع۔ اس لیے اگر کوئی شخص حکومت میں خرابی دیکھے تو اس کو سماج کی سطح پر اپنا اصلاحی عمل جاری کر دینا چاہیے۔ یہی اصلاح کا صحیح اور اسلامی طریقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیاسی نزاع سے روکنے کا مطلب دراصل کوششوں کا رخ پھیرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں سر نہ ٹکراؤ، بلکہ تعمیر کے میدان میں اپنا کام شروع کر دو، اس طرح تم زیادہ بہتر طور پر اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہو۔ درخت کی پتیاں مرجھائیں تو کوئی بھی شخص ایسا نہیں کرتا کہ وہ پتیوں پر پانی بہائے۔ اس کے برعکس وہ درخت کی جڑوں میں پانی ڈالتا ہے۔ کسی کے بلب میں کرنٹ نہ آ رہا ہو تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page