Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ بلب پر محنت نہیں کرتا، بلکہ پاور ہاؤس سے ربط قائم کرتا ہے۔ کیوں کہ جڑ میں پانی ہونے سے درخت کی پتیاں سرسبز ہوتی ہیں۔ اسی طرح بلب اس وقت روشن ہوتا ہے جب کہ پاور ہاؤ س سے اس کو کرنٹ بھیجا جارہاہو۔ یہی معاملہ انسانی سماج کا بھی ہے۔ انسانی سماج کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک، حکمران افراد اور دوسرے عوام۔ عوام کی حیثیت جڑ کی ہے اور حکمران افراد کی حیثیت پتیوں کی۔ یا عوام بمنزلہ پاور ہاؤس ہیں اور حکمران افراد بمنزلہ بلب۔ ایسی حالت میں یہاں بھی بگڑ کی اصلاح کا صحیح طریقہ وہی ہے جو درخت اور پاور ہاؤس کی مثال میں پایا جاتا ہے۔ اگر حکمران افراد کے اندر بگڑ نظر آئے تو حکمران افراد سے نہ لڑیے بلکہ عوام کی اصلاح شروع کر دیجیے۔ پتیوں کے مسئلے کو جڑ کی سطح پر حل کیجیے۔ حکمران افراد کے اندر بگڑ دیکھ کر حکمران افراد سے لڑنا صرف سماجی تخریب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ایسا کیا جائے کہ حکمران افراد میں بگڑ ظاہر ہونے کے مواقع پر عوامی اصلاح کے محاذ پر جدوجہد کی جائے تو اس سے سماج کی تعمیر ہوتی ہے اور اس کے بعد نتیجتاً حکمراں طبقے کی اصلاح۔ یہی وہ اہم سماجی مصلحت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ تم جیسے ہو گے اسی طرح کے حکمران تمہارے اوپر مقرر کیے جائیں گے: كَمَا تَكُونُونَ كَذَلِكَ يُؤْمَر عَلَيْكُمْ۔ (مسند الشهاب القضاعی، حدیث نمبر 577) مٹی سے برتن بنتا ہے، برتن سے مٹی نہیں بنتی۔ اسی طرح عوام سے حکومت بنتی ہے، حکومت سے عوام کی تشکیل نہیں ہوتی۔ اس لیے جو شخص حقیقی معنوں میں نتیجہ دیکھنا چاہتا ہو، اس کو چاہیے کہ وہ سماج کو اپنی اصلاحی جدوجہد کا نشانہ بنائے۔ افرادِ حکومت سے ٹکراؤ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ سیاسی بگڑ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page