سیاسی بگاڑ
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے۔ آپ نے ان تمام باتوں کو بیان کیا جو آپ کے زمانے سے لے کر قیامت برپا ہونے تک پیش آئیں گی۔ آپ نے ان میں سے کسی بات کو بھی بیان کیے بغیر نہیں چھوڑا: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَقَامًا، مَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا حَدَّثَ بِهِ۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2891) حضرت حذیفہ ایک اور روایت میں کہتے ہیں کہ دوسرے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھتے تھے۔ مگر میں آپ سے شر کے بارے میں پوچھتا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں وہ مجھ کو پکڑ نہ لے۔ وہ بتاتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم جاہلیت اور شر میں تھے، یہاں تک کہ اللہ اس خیر کو ہمارے درمیان لے آیا۔ پھر کیا اس خیر کے بعد دوبارہ شر ہوگا۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں دوبارہ شر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، اس وقت کے لیے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حاکم کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں اور تمہارا مال چھینا جائے، تب بھی سنو اور اطاعت کرو: تَسْمَعُ وَتُطِيعُ الْأَمِيرَ، وَإِنْ ضَرَبَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1847) دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تین زمانوں کی بابت فرمایا ہے کہ وہ خیر کا زمانہ ہوگا—دورِ رسالت، دورِ صحابہ، دورِ تابعین۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ لوگوں میں بہتر کون ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میرے زمانے کے لوگ، اس کے بعد دوسرا، اور اس کے بعد تیسرا: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي ثُمَّ الثَّالِثُ۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 25233)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader