Urdu book · راہِ عمل

سیاسی بگاڑ

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

احادیث سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ جب برا زمانہ شروع ہو گا تو وہ برابر جاری رہے گا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ صحیح بخاری میں زبیر بن عدی سے روایت ہے کہ ہم حضرت انس بن مالک کے پاس آئے اور ان سے حجاج بن یوسف کے ظلم کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ صبر کرو۔ کیوں کہ اب تمہارے اوپر جو زمانہ بھی آئے گا وہ اور بھی زیادہ برا ہو گا، یہ حالت جاری رہے گی، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو، ایسا ہی میں نے تمہارے نبی سے سنا ہے: اصْبِرُوا، فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ، حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ، سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6657) صحیح مسلم میں حضرت ابو بکرہ کی روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک آئندہ فتنے ہوں گے۔ سن لو کہ پھر فتنے ہوں گے۔ سن لو کہ پھر فتنے ہوں گے۔ بیٹھنے والا اس میں چلنے والے سے بہتر ہوگا۔ اور چلنے والا اس میں دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ سن لو کہ جب ایسا ہو تو جس کے پاس اونٹ ہو تو وہ اپنے اونٹ سے مل جائے ۔ جس کے پاس بکری ہو وہ اپنی بکری سے مل جائے۔ جس کے پاس زمین ہو وہ اپنی زمین سے مل جائے ۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ اے خدا کے رسول، جس آدمی کے پاس نہ اونٹ ہو اور نہ بکری اور نہ زمین، وہ کیا کرے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ اپنی تلوار کو لے اور اس کی دھار کو پتھر پر مار کر سے توڑ ڈالے۔ پھر وہ اپنے آپ کو بچالے، اگر وہ بچنا چاہے ۔ اے اللہ، کیا میں نے پہنچا دیا۔ یہ فقرہ آپ نے تین بار فرمایا: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يُحَدِّثُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ، أَلَا ثُمَّ تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي فِيهَا، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا، أَلَا فَإِذَا نَزَلَتْ أَوْ وَقَعَتْ فَمَنْ كَانَ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page