Urdu book · راہِ عمل

سیاسی بگاڑ

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

أَرْضٍ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ. قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبِلٌ وَلَا غَنَمٌ وَلَا أَرْضٌ؟ قَالَ: يَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ فَيَدُقَّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2887) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی روایتیں کثرت سے منقول ہیں ۔ ان کو حدیث کی کتابوں میں کتاب الفتن اور دوسرے ابواب کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ احادیث بتاتی ہیں کہ سیاسی بگاڑ کے زمانے میں عام مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے ۔ اس سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی ٹکراؤ سے مکمل پر ہیز کرنا چاہیے ۔ حکمران افراد کے بگاڑ کے باوجود انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ سیاسی اصلاح کے نام پر حکمرانوں سے لڑنا شروع کر دیں۔ حدیث کے مطابق ایسے زمانے میں اہل ایمان کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنی بکری، اپنے اونٹ اور اپنی زمین کے ساتھ لگ جائیں اور اس کے اندر اپنا عمل جاری کر دیں۔ یہ دراصل تمثیل کی زبان میں مسلمانوں کو ان کے عمل کا رخ بتایا گیا ہے۔ یعنی سیاسی ٹکراؤ کے دائرے کو چھوڑ کر اس غیر سیاسی دائرے میں اپنی کوششوں کو لگا دینا جہاں حکمرانوں سے ٹکراؤ کے بغیر اپنا عمل جاری رکھنا ممکن ہوتا ہے۔ تاہم ان ہدایات کا تعلق آغاز سفر سے ہے، منزل سے نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم حکومت میں بگاڑ دیکھو تو حکومت کے خلاف تحریک چلانے سے اپنے عمل کا آغاز نہ کرو، بلکہ غیر سیاسی میدانوں میں تعمیری جدوجہد سے اپنا عمل شروع کرو، اور پھر حسب حالات آگے کی طرف قدم اٹھاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے ایک طرف بعد کے مسلمانوں کو وہ ہدایات دیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page