سیاسی بگاڑ
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
جن کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کا عملی نمونہ بھی قائم کر دیا گیا۔ یہ نمونہ پیغمبر اسلام کے دونوں بیٹوں کے ذریعہ قائم کیا گیا۔ ایک حسنؓ بن علی، اور دوسرا حسینؓ بن علی۔ پہلا نمونہ اس بات کا کہ سیاسی ٹکراؤ کو چھوڑ کر اگر کام کیا جائے تو اس سے اسلام کو کس قسم کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اور دوسرا نمونہ اس بات کا کہ اگر اصلاح سیاست کے نام پر حکمرانوں سے ٹکراؤ کیا جائے تو اس سے کس قسم کے نقصانات امت کے حصے میں آئیں گے۔ امام حسنؓ کا نمونہ حضرت امام حسنؓ (50-3ھ) حضرت علی کی شہادت کے بعد خلیفہ بنائے گئے۔ اس وقت صورتِ حال یہ تھی کہ امیر معاویہ شام اور دوسرے ملحق علاقوں کے حاکم تھے۔ وہ امام حسنؓ کی بیعت پر راضی نہیں ہوئے۔ جس طرح انہوں نے اس سے پہلے چوتھے خلیفہ حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امام حسنؓ اور امیر معاویہ میں سخت کشیدگی ہوئی اور جنگ کے حالات پیدا ہوگئے۔ اس وقت امام حسنؓ کے ساتھ 40 ہزار آدمیوں کا لشکر تھا۔ دوسری طرف امیر معاویہ کے ساتھ بھی 40 ہزار یا اس سے کچھ زیادہ آدمیوں کا لشکر موجود تھا۔ امام حسنؓ 6 مہینہ تک خلافت کے عہدے پر رہے۔ مگر ان کی کوششوں کے باوجود امیر معاویہ ان کے ہاتھ پر بیعت کے لیے راضی نہ ہوسکے۔ امام حسنؓ نے محسوس کیا کہ اگر میں امیر معاویہ سے بیعت پر مزید اصرار کرتا ہوں تو اس کا لازمی نتیجہ جنگ ہو گا جس میں دونوں طرف کے ہزاروں مسلمان مارے جائیں گے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ یک طرفہ طور پر امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو جائیں۔ امام حسنؓ کے ساتھیوں نے سخت اختلاف کیا اور انہیں معاویہ کے خلاف لڑنے پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader