سیاسی بگاڑ
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
ابھارا۔ مگر وہ کسی قیمت پر لڑنے کے لیے تیار نہیں ہوئے اور 41ھ میں خلافت کو امیر معاویہ کے حوالے کر کے خانہ نشین ہوگئے۔ خلافت سے دستبرداری کے بعد امام حسنؓ نے مسلمانوں کے سامنے ایک تقریر کی جس میں انہوں نے کہا: اے مسلمانو، میں فتنے کو بہت برا سمجھتا ہوں۔ میں نے مسلمانوں کی جان و مال کو بچانے کے لیے معاویہ بن ابی سفیان سے صلح کر لی ہے۔ اور ان کو امیر اور خلیفہ تسلیم کیا ہے۔ سنو، امارت اور خلافت اگر ان کا حق تھا تو وہ ان کو پہنچ گیا اور اگر وہ میرا حق تھا تو میں نے اس کو انہیں بخش دیا۔ (دیکھیے، الاستیعاب لابن عبدالبر، جلد 1، صفحہ نمبر 389) صلح حضرت علی کی شہادت کے چھ ماہ بعد 41ھ میں کوفہ میں ہوئی۔ اسی لیے اسلام کی تاریخ میں 41ھ کو عام الجماعت کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس صلح نے مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو باہمی اتحاد میں تبدیل کر دیا۔ اگرچہ اس وقت کے پرجوش لوگوں نے امام حسنؓ کی سخت مخالفت کی۔ حتی کہ ان پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی اور ان کو عام المسلمین کا خطاب دیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امام حسنؓ کا کارنامہ ایک عظیم الشان کارنامہ ہے۔ اس کے بارے میں بہترین تبصرہ وہ ہے جو امیر معاویہ سے منقول ہے۔ انہوں نے امام حسنؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابو محمد، تم نے آج ایسی بہادری اور جواں مردی دکھائی ہے جیسی بہادری اور جواں مردی اب تک کوئی بھی نہ دکھا سکا تھا۔ امام حسنؓ کی خلافت صرف چھ مہینے تک رہی۔ نیز یہ کہ وہ خود خلافت سے دستبردار ہو گئے۔ اس بنا پر مورخین عام طور پر ان کو خلافت راشدہ کی فہرست میں شامل نہیں کرتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اسلامی خلافت کی ایک شاندار سنہری کڑی ہیں۔ امام حسنؓ نے دس سال کی بھیانک خانہ جنگی کو ایک لمحہ میں ختم کر دیا۔ حضرت عثمان کے آخری دور اور ان کی شہادت (35ھ) سے لے کر حسنؓ اور معاویہ کے درمیان صلح (41ھ)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader