سیاسی بگاڑ
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
تک مسلم دنیا میں جو انتشار رہا، اس نے اسلام دشمنوں کو ریشہ دوانی کا زبردست موقع دے دیا تھا۔ یہ تمام سازشیں صلح کے بعد اچانک درہم برہم ہوگئیں۔ حضرت عثمان کی خلافت کے نصف حصے کے بعد اسلامی فتوحات کا سلسلہ رک گیا تھا، اب وہ دوبارہ جاری ہوگیا۔ چنانچہ اس کے بعد مسلمانوں نے بحر روم کے جزیروں پر قبضہ کیا، طرابلس الغرب، مراکش، اسپین، سندھ، افغانستان، ترکستان وغیرہ فتح ہوئے۔ مسلمان پیش قدمی کر کے قسطنطنیہ کی دیواروں تک پہنچ گئے۔ امام حسن رضی صلح کا یہ بے حد اہم فائدہ ہوا کہ مسلمانوں کی تلواریں جو آپس میں ایک دوسرے کا خون بہا رہی تھیں، ان کا رخ باہر کی طرف ہو گیا۔ پوری مسلم دنیا اچانک ایک ناقابل تسخیر متحدہ طاقت بن گئی۔ اسلام کا سیلاب جس کو آپس کی لڑائیوں نے روک دیا تھا، وہ دوبارہ پوری طاقت کے ساتھ عالمی سطح پر رواں ہو گیا۔ امام حسین رضی کا نمونہ امیر معاویہ نے اپنے لڑکے یزید بن معاویہ (65-64 ھ) کو اپنی زندگی ہی میں اپنا جانشیں بنا دیا تھا۔ تاہم امام حسین رضی نے یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ امام حسین رضی مدینہ سے مکہ چلے گئے۔ وہاں ان کے پاس کوفہ والوں کے خط آنے لگے جن میں درج ہوتا تھا کہ آپ کوفہ آ جائیں ہم سب آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے۔ ہم آپ ہی کو خلافت کا حق دار سمجھتے ہیں۔ امام حسن رضی کوفہ والوں کے مزاج کا اندازہ تھا۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی امام حسین رضی کو پیشگی یہ وصیت کر دی تھی کہ کوفہ والے تم کو خروج پر ابھاریں گے۔ مگر تم کوفہ والوں کے فریب میں نہ آنا۔ مگر امام حسین رضی کوفہ والوں کی باتوں سے متاثر ہو گئے۔ انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو اپنا سیاسی نمائندہ بنا کر کوفہ بھیجا اور کہا کہ وہاں جا کر لوگوں سے ملو۔ اور پوشیدہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader