Urdu book · راہِ عمل

سیاسی بگاڑ

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

طور پر میری طرف سے بیعت لو۔ کوفہ میں تقریباً 18 ہزار آدمیوں نے مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ یزید کو پتہ چلا تو اس نے عبید اللہ بن زیاد کو ایک بڑی فوج کے ساتھ کوفہ روانہ کیا۔ اس نے کوفہ پہنچ کر مسلم بن عقیل کو بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا۔ بیعت کرنے والے دہشت زدہ ہو کر اپنی بیعت سے پھر گئے۔ 3 ذی الحجہ 60 ھ کو مسلم بن عقیل اور ان کے ساتھی کوفہ میں قتل کیے جا رہے تھے۔ عین اسی دن (3 ذی الحجہ کو) امام حسینؓ اس احساس کے ساتھ کوفہ کے لیے روانہ ہو رہے تھے کہ وہاں کے تمام مسلمان نیابتاً میرے لیے بیعت کر چکے ہیں۔ تمام صحابہ نے امام حسینؓ کو کوفہ کے سفر سے روکا۔ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں صحابہ موجود تھے۔ مگر کوئی صحابی ان کے قافلے میں شریک نہ ہوا۔ اس کے باوجود وہ اپنی رائے پر مُصر رہے اور اپنے اہل خانہ کو لے کر مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ امام حسینؓ کو مسلم بن عقیل کے قتل کی خبر صرف اس وقت ملی جب کہ وہ کوفہ کے قریب مقام ثعلبیہ پہنچ گئے۔ امام حسینؓ کا قافلہ جو تقریباً 70 آدمیوں پر مشتمل تھا، اس میں سخت مایوسی پھیل گئی۔ لوگ کہنے لگے کہ واپس چلو۔ مگر معلوم ہوا کہ یزید کے آدمیوں نے کوفہ کے چاروں طرف دور دور تک فوجیں مقرر کر دی ہیں کہ امام حسینؓ اگر واپس جانا چاہیں تو واپس نہ جا سکیں۔ چنانچہ امام حسینؓ واپسی کے لیے جس طرف بھی رخ کرتے، انہیں معلوم ہوتا کہ ایک فوج ان کو روکنے کے لیے وہاں موجود ہے۔ اس واقعے کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یزید کی فوجوں نے امام حسینؓ کے لیے لڑنے کے سوا کوئی اور راستہ باقی نہ رکھا۔ صحیح روایات کے مطابق ، امام حسینؓ نے آخر وقت میں یزید کے آدمیوں سے کہا کہ میں تم سے تین میں سے کسی بھی ایک بات پر راضی ہوں۔ یا تو میں وہیں واپس چلا جاؤں جہاں سے میں آیا ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page