سیاسی بگاڑ
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
یا میں اپنا ہاتھ یزید بن معاویہ کے ہاتھ پر رکھ دوں۔ یا مجھے مسلم سرحدوں میں سے کسی سرحد کی طرف جانے دو۔ اختار وامنی خصالاً ثلاثاً: إِمَّا أَنْ أَرْجِعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَقْبَلْتُ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ أَضَعَ يَدِي فِي يَدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَيَرَى فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ رَأْيَهُ، وَإِمَّا أَنْ تَسِيرُوا بِي إِلَى أَيِّ ثَغْرِ مِنْ ثُغُورِ الْمُسْلِمِينَ شِئْتُمْ ۔ (تاریخ الطبری، جلد 5، صفحہ 413) مگر یزید کے فوجی تینوں میں سے کسی شرط پر راضی نہیں ہوئے۔ انہوں نے حملہ میں پہل کر کے امام حسینؓ کو لڑنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ دونوں گروہوں کے درمیان جنگ ہوئی ۔ اس مقابلے میں اولاً امام حسینؓ کے تمام آدمی کام آئے ۔ اور آخر میں خود امام حسینؓ بھی۔ امام حسینؓ بے حد طاقتور اور بہادر آدمی تھے۔ وہ نہایت بے جگری کے ساتھ لڑتے رہے۔ روایت کے مطابق ان کے جسم پر 33 نیزے کے زخم اور 43 تلوار کے زخم تھے۔ اس کے باوجود وہ شیر کی طرح مقابلہ کرتے رہے۔ آخر میں چند آدمیوں نے بیک وقت آپ پر حملہ کر کے آپ کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد آپ کا سر کاٹ کر جدا کیا گیا اور 12 سوار متعین کیے گئے جو اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں سے دیر تک آپ کے جسم کو کچلتے رہے۔ پھر آپ کا سر یزید کے پاس دمشق روانہ کر دیا گیا۔ یزید نے جب آپ کا کٹا ہوا سر دیکھا تو وہ رو پڑا۔ اس نے اپنے آدمیوں کو سخت سرزنش کی اور کہا کہ میں نے کب یہ حکم دیا تھا کہ تم حسین بن علی کو قتل کر دو۔ آخر میں اس نے کہا: حسینؓ کی ماں میری ماں سے بہتر تھی۔ اور ان کے نانا تمام انسانوں سے بہتر تھے۔ مگر میرے اور حسینؓ کے درمیان خلافت کے مسئلہ پر نزاع ہوا۔ آخر اللہ نے اس کا فیصلہ ہمارے حق میں کر دیا۔ امام حسینؓ کے خروج کو اگر یہ حیثیت دی جائے کہ اس کا مقصد اصلاح سیاست تھا، یا یہ کہ وہ خاندانی خلافت کو ختم کر کے شورائی خلافت کا نظام قائم کرنا چاہتے تھے، تو بلا شبہ عملی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader