Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

اعتبار سے ان کا اقدام مکمل طور پر ناکام رہا۔ کیوں کہ اس خروج سے نہ تو یزید کا خاتمہ ہوا اور نہ یزیدیت (خاندانی خلافت) کا۔ البتہ کچھ نہایت قیمتی زندگیاں بے فائدہ طور پر ضائع ہوگئیں حالاں کہ کسی اور میدان میں سرگرم ہو کر وہ بڑے بڑے اسلامی کارنامے انجام دے سکتے تھے۔ دو عملی نمونه یہ گویا دو رول ماڈل (نمونہ عمل) ہیں۔ ایک حسن بن علی کا، اور دوسرا حسین بن علی کا۔ اوپر جو روایتیں نقل کی گئیں ، وہ واضح طور پر ثابت کرتی ہیں کہ اسلامی طریق کار کے اعتبار سے صحیح رول ماڈل (role-model) وہ ہے جو حسن بن علی کا ہے۔ اگر آدمی واقعی امر حق کا طالب ہو تو اس معاملے میں اس کو کوئی شبہ لاحق نہیں ہوسکتا۔ مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام کی صراحت کے ساتھ حسن بن علی کے رول ماڈل کے حق میں اپنا پیشگی فیصلہ دے دیا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو بکرہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا اور حسن بن علی آپ کے پہلو میں تھے۔ آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی حسن کی طرف۔ اور فرماتے کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے۔ اور امید ہے کہ اللہ تعالی اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح قائم فرمائے گا: اِنَّ ابْنِي هٰذَا سَيِّدٌ، وَّلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ - (صحیح البخاری ، حدیث نمبر (2557) اس حدیث میں امام حسن کے جس فعل کی تحسین ہے وہ یہی ہے کہ انہوں نے سیاسی نزاع کے میدان سے اپنے آپ کو ہٹا لیا۔ بخاری کی یہ روایت امام حسن کے رول ماڈل کی پیغمبرانہ تصدیق ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page