Urdu book · راہِ عمل

تاریخ امت

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخِ امت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے امتِ مسلمہ کو ایک طرف واضح طور پر یہ بتا دیا کہ پیغمبر کے بعد اسلامی دنیا میں سیاسی بگاڑ آئے گا۔ حکمراں افراد ظلم کے راستے پر چلنے لگیں گے۔ مگر اس وقت کرنے کا کام یہ نہ ہوگا کہ امت کے علماء اور مصلحین حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ شروع کر دیں۔ اس کے برعکس انہیں یہ کرنا چاہیے کہ وہ براہِ راست سیاسی ٹکراؤ سے الگ رہ کر دوسرے دینی اور تعمیری میدانوں میں اپنی کوششوں کو لگادیں۔ اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں کثرت سے روایتیں موجود ہیں۔ اس ہدایت کا مطلب فرار نہیں بلکہ حکمت ہے۔ اس سے مراد نتیجہ خیز (result-oriented) عمل پر زور دینا ہے۔ یعنی ایسے میدان میں اپنی کوشش صرف کی جائے جہاں کوشش کا مثبت نتیجہ بر آمد ہوتا ہو، ایسے میدان میں کوشش نہ کی جائے جہاں ساری کوشش صرف کرنے کے بعد بھی کوئی مثبت نتیجہ بر آمد نہ ہو سکے۔ اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے دوسرا انتظام یہ فرمایا کہ پیغمبر کے دونوںوں کے ذریعے دونوں قسم کے عمل کی واضح مثالیں قائم کردیں۔ نظری ہدایت کے ساتھ عملی طور پر بھی دکھادیا کہ اگر تم سیاسی ٹکراؤ کروگے تو اس کا نتیجہ کس شکل میں بر آمد ہوگا۔ او پر امام حسنؓ اور امام حسینؓ کی جو متقابل مثالیں نقل کی گئیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت کے لیے دو تاریخی نمونے قائم کر دیے ہیں۔ امام حسنؓ کا نمونہ یہ بتاتا ہے کہ حکمرانوں سے ٹکراؤ نہ کرنے کی صورت میں اسلام اور مسلمانوں کو عظیم الشان فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، نمونہ امام حسینؓ کا ہے جو بتا رہا ہے کہ حکمرانوں سے ٹکراؤ کی سیاست سراسر ایک بے فائدہ عمل ہے۔ اس کا کوئی نتیجہ نہ اسلام کے حصہ میں آنے والا ہے اور نہ مسلمانوں کے حصہ میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page