Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو امت مسلمہ بنی، اس میں کچھ افراد وہ تھے جن کے اندر سیاسی حوصلہ تھا۔ وہ ملک گیری اور حکمرانوں سے ٹکراؤ کے راستہ پر چل پڑے۔ مگر ایسے لوگوں سے ہمیں کوئی بحث نہیں۔ کیوں کہ وہ اُمت محمدی کے نمائندہ افراد نہیں ہیں۔ اس وقت ہماری بحث کا تعلق امت کے صرف ان افراد سے ہے جن کو امت کے اندر نمائندہ حیثیت حاصل ہے، جو قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے نمونہ ہیں۔ جنہوں نے اسلام کی حقیقی تاریخ بنائی ہے۔ نمائندہ گروہ واقعات بتاتے ہیں کہ امت کے نمائندہ طبقہ نے اللہ اور رسول کے مذکورہ منشا کو سمجھا۔ اور اس کو پوری طرح پکڑ لیا۔ اس کے بعد امت کی تاریخ اسی رخ پر چل پڑی۔ اور ہزار برس تک مسلسل اسی رخ پر چلتی رہی۔ موجودہ زمانے کی نام نہاد اسلامی انقلابی تحریکوں سے پہلے اس کی خلاف ورزی کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کا پہلا نمائندہ طبقہ وہ ہے جس کو صحابہ کرام کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علماء، صوفیاء کا درجہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو امت میں نمائندہ گروہ کی حیثیت حاصل ہے۔ ان میں سے کسی بھی گروہ نے کبھی مذکورہ بالا ہدایت کے خلاف روش اختیار نہیں کی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تمام لوگ حسنؓ کے رول ماڈل پر چلتے رہے، نہ کہ حسینؓ کے رول ماڈل پر۔ بنو امیہ کے زمانے میں جب امت کے سیاسی ادارے میں بگاڑ پیدا ہوا تو ہزاروں کی تعداد میں صحابہ موجود تھے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ انہوں نے سیاسی بگاڑ کے خلاف اس قسم کا کوئی ہنگامہ نہیں کھڑا کیا جس کا نمونہ موجودہ زمانے کی نام نہاد اسلامی جماعتوں نے پیش کیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page