نمائندہ گروہ
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے برعکس، انہوں نے یہ کیا کہ وہ ایشیا اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ اور اسلام کی تبلیغ واشاعت کا کام کرنے لگے۔ اسی کا نتیجہ وہ جغرافی واقع ہے جس کو عرب دنیا کہا جاتا ہے۔ صحابہ کی انہیں "غیر سیاسی" کوششوں کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام نہ صرف عرب کے چاروں طرف پھیلا بلکہ ایک وسیع خطے میں اسلام کو ابدی طور پر تہذیبی غلبہ حاصل ہوگیا۔ صحابہ کرام اگر "سیاسی اصلاح" کے نام پر حکمرانوں سے ٹکراتے تو یقینی تھا کہ ان کا انجام وہی ہوتا جو امام حسینؓ کا اور ان کے ساتھیوں کا کربلا کے میدان میں ہوا۔ ایسی حالت میں زمین پر ایک وسیع دنیائے کربلا تو ظہور میں آسکتی تھی مگر یہ ناممکن تھا کہ ایک وسیع دنیائے اسلام ظہور میں آئے۔ تابعین اور تبع تابعین کی ایک بڑی تعداد نے بھی ایسا ہی کیا۔ ان کے زمانے میں حکمرانوں کا بگاڑ پوری طرح ظاہر ہو چکا تھا مگر انہوں نے حکمرانوں سے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر حدیث کی تدوین کا کام شروع کر دیا۔ انہوں نے وہ فن تخلیق کیا جس کو علم حدیث کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف انہوں نے رات دن کی محنت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام حدیثوں کو جمع کیا اور ان کو کتابی شکل میں مرتب کر دیا تا کہ وہ قیامت تک کی نسلوں کے لیے رہنمائی کا کام کرتا رہے۔ محدثین کا گروہ اس کے بجائے اگر یہ کام کرتا کہ وہ اسلامی سیاست کے نام پر حکمرانوں سے لڑائی شروع کر دیتا تو حدیث کی تدوین کا کام انجام نہیں پاسکتا تھا۔ یہ بلاشبہ اتنا بڑا نقصان ہوتا جس کی تلافی قیامت تک نہ ہوسکے۔ انہیں تابعین اور تبع تابعین کا ایک گروہ وہ ہے جو فقہ کی تدوین میں لگ گیا۔ انہوں نے کتاب وسنت کے نصوص میں قیاس اور اجتہاد کے ذریعے بے شمار احکام مستنبط کیے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader