نمائندہ گروہ
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
انہوں نے نہ صرف علم فقہ کو وجود دیا بلکہ زندگی کے تمام شعبوں کے لیے مکمل قانونی نظام مرتب کر دیا۔ یہ فقہاء اگر اپنے زمانے کے "ظالم" حکمرانوں سے اصلاح کے نام پر جنگ اور ٹکراؤ شروع کر دیتے تو فقہ کی تدوین کا وہ عظیم الشان کام انجام نہیں پا سکتا تھا جو ان حضرات کے ذریعہ انجام پایا۔ اس کے بعد علماء کا وہ طویل سلسلہ ہے جو صدیوں کے درمیان اسلام کی علمی اور تعمیری خدمت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ ان حضرات نے بھی یہی کیا کہ حکمرانوں کے بگاڑ کے خلاف سیاسی تحریک چلانے کا طریقہ چھوڑ کر دوسرے ممکن میدانوں میں سرگرم ہو گئے۔ اسی کا ایک نتیجہ وہ عظیم الشان علمی سرمایہ ہے جس کو اسلامی کتب خانہ کہا جاتا ہے۔ آج ہمارے پاس عربی زبان میں تفسیر حدیث ، سیرت، تاریخ اسلام، علم کلام، فقہ اور دوسرے اسلامی موضوعات پر بے شمار نہایت قیمتی کتابیں موجود ہیں۔ وہ اسلام کے علمی مطالعے کے لیے ابدی طور پر کافی ہیں۔ تاہم یہ ناقابل بیان حد تک قیمتی کام اسی وقت ممکن ہو سکا جب کہ علماء اسلام نے سیاسی تصادم کو چھوڑ کر پر امن تعمیری میدان کو اپنی کوششوں کا مرکز و محور بنایا۔ یہی معاملہ صوفیاء کا بھی ہے۔ صوفیاء کے زمانے میں بھی ہر طرف ظالم حکمران موجود تھے۔ مگر صوفیاء نے ان سے براہ راست ٹکراؤ نہیں کیا۔ وہ ان حکمرانوں سے الگ رہ کر خالص غیر سیاسی دائرہ میں سرگرم ہو گئے۔ انہوں نے "اصلاح سیاست" کے بجائے "اصلاح افراد" کو اپنا نشانہ بنایا۔ صوفیاء اگر حکمرانوں سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتے تو اس کے سوا اور کچھ نہ ہوتا کہ ان میں سے ہر ایک کے نام کے ساتھ لفظ شہید کا اضافہ ہو جائے جیسا کہ موجودہ زمانہ کے بہت سے رہنماؤں کی مثال میں نظر آتا ہے۔ مگر جب انہوں نے سیاست گاہ کے بجائے خانقاہ کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader