Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنا مرکز عمل بنایا تو وہ لاکھوں لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بن گئے حتی کہ خود حکمرانوں کی اصلاح کا ذریعہ بھی۔ انہیں صوفیاء کی کوششوں کا یہ نتیجہ ہے کہ آج برصغیر ہند میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان پائے جاتے ہیں۔ بھارت کے علاوہ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلم ملک زیادہ تر صوفیاء ہی کی بدولت وجود میں آئے ہیں۔ حکمرانوں سے ٹکراؤ کرنے والوں کے ذریعہ کبھی اس قسم کا مثبت واقعہ ظہور میں نہیں آیا۔ ہندوستان میں جو صوفیاء گزرے ہیں، ان کے حالات اور ان کے ملفوظات کو پڑھیے تو اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے ملک کے غیر مسلموں میں براہ راست تبلیغ کا کام کیا ہو۔ یا اس کا پروگرام بنایا ہو، اس کے باوجود یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ ہندوستان کے لاکھوں بلکہ کروڑوں غیر مسلم ہیں جنہوں نے انہیں صوفیاء کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے۔ حضرت خالد بن ولید کو تبلیغ کے لیے یمن میں بھیجا گیا۔ وہ وہاں پہنچے تو وہ اونٹ پر بیٹھ کر لوگوں کے درمیان بلند آواز سے کہتے پھرتے تھے کہ: قُوْلُوا 1 لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللهُ، تُفْلِحُوْا (لوگو، لا الہ الا اللہ کہو، تم کامیاب ہو گے)۔ صوفیاء کے متعلق ثابت نہیں کہ وہ اس طرح لوگوں کے درمیان تبلیغ کی کوشش کرتے ہوں۔ اصل یہ ہے کہ لوگ بطور خود اسلام کی طرف مائل ہوتے تھے اور اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتے تھے۔ پھر جب وہ اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیتے تو وہ اپنے علاقے کے کسی مسلمان بزرگ کے پاس آتے اور ان سے کہتے کہ ہم کو اسلام میں داخل کر لیجیے۔ اس طرح صوفیاء بالواسطہ طور پر اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بنے۔ ایک اہم سبق صوفیاء کی مذکورہ تاریخ نے بالواسطہ انداز میں ایک عظیم الشان کام انجام دیا ہے۔ اس نے اسلام کی دعوتی طاقت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ اس تاریخ سے یہ ثابت ہوا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page