Urdu book · راہِ عمل

ایک اہم سبق

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان اگر نفرت اور کشیدگی کی فضا کو ختم کر دیا جائے تو اسلام اپنے آپ پھیلنے لگتا ہے۔ تمام مذاہب میں اسلام کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ ایک مسلّمہ مذہب ہے۔ وہ تاریخی طور پر ثابت شدہ دین بن چکا ہے۔ اور جب ایک مذہب اس طرح ایک مسلّمہ حقیقت بن جائے تو اس کے اندر اپنے آپ پھیلنے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ انسانی فطرت سے موافقت کا زور ہی اس بات کے لیے کافی ہو جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنانے لگے۔ اب اس کی راہ کی رکاوٹ صرف یہ ہوتی ہے کہ مدعو اقوام کے درمیان اسلام سے بیزاری اور نفرت کی فضا پیدا ہو گئی ہو۔ اگر ایسی فضا نہ ہو تو لوگ خود اپنی اندرونی آواز کے زیر اثر اس کی طرف مائل ہوں گے۔ اور اپنے آپ اسے قبول کر لیں گے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ صوفیاء اس حقیقت کا شعوری ادراک رکھتے ہوں۔ تا ہم ان کے عمل کا یہ فائدہ یقیناً اسلام کو حاصل ہوا۔ صوفیاء کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ وہ محبت اور امن کا پیغام لے کر اٹھے۔ چشتیہ سلسلہ کی کتاب نافع السالکین میں بتایا گیا ہے کہ ہمارے طریقہ میں یہ ہے کہ مسلمان اور ہندو دونوں سے صلح رکھنی چاہیے ( در طریق ما هست که با مسلمان و ہندو صلح باید داشت ) اسی طرح شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں کہ نُواں یہ کہ ہندو اور مسلمان دونوں کے ساتھ صلح رکھی جائے ( تاسعاً آنکہ صلح با هند و مسلمان سازند)۔ اپنے اسی مسلک کی بنا پر صوفی حضرات دوسروں پر تنقید نہیں کرتے تھے، وہ دوسرے راستوں کے خلاف تنقید کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ صوفیاء نے اسی انداز پر کام کیا۔ انہوں نے اپنے مسلسل عمل سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کشیدگی کی فضا ختم کر دی ۔ اس کا دعوتی فائدہ براہ راست اسلام کے حصے میں آیا۔ صوفیاء کا طریقہ یہ تھا کہ وہ مذہب و ملت کی تمیز کے بغیر ہر ایک کو امن اور محبت کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page