Urdu book · راہِ عمل

ایک جائزہ

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

گے ۔ چنانچہ ہم اپنے کپڑے سمیٹنے لگے اس خوف سے کہ وہ قتل کیے جائیں اور ہمارے کپڑے ان کے خون سے آلودہ ہو جائیں : وَنَحْنُ نَجْمَعُ ثِيَابَنَا خَوْفاً أَنْ يُقْتَلَ فَيُطْرَطُسَ بِدَمِهِ۔ (مسالک الابصار لابن فضل اللہ العمری ، جلد 5 ، صفحہ 699) اس غیر معمولی بے باکی کے باوجود قازان کو یہ جرات نہ ہوسکی کہ وہ ابن تیمیہ کے خلاف ہاتھ اٹھائے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کا واقعہ ہے جس کو مولاناشبلی نعمانی نے نہایت موثر انداز میں نظم کیا ہے اور وہ ”عدل جہانگیری“ کے عنوان سے ان کے مجموعۂ کلام میں شامل ہے۔ اس واقعے کے مطابق جہانگیری کی محبوب ملکہ نور جہاں نے ایک شخص کو بلا سبب طمنچہ مار کر قتل کر دیا۔ یہ معاملہ شرعی مفتی کے سامنے پیش ہوا۔ علامہ شبلی کے الفاظ میں: مفتی شرع نے بے خوف وخطر صاف کہا شرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑا دو گردن مفتی کے اس فتوے کے بعد نور جہاں ، جہانگیر اور تمام درباری اپنے کو بے دست و پا محسوس کرنے لگے ۔ بظاہر اس کے سوا کوئی صورت نہ تھی کہ مقتول کے قصاص میں نور جہاں کو قتل کر دیا جائے ۔ آخر کار مقتول کے ورثاء دیت لینے پر راضی ہو گئے اور اس طرح نور جہاں کی جان بچ گئی۔ اسلام کی پچھلی ہزار سالہ تاریخ میں اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جو کتابوں میں بکھرے ہوئے ہیں ۔ عام طور پر لوگ ان واقعات کو بعض افراد کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں، مگر زیادہ صحیح طور پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ اس طریقہ کے خانے میں جاتا ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ یعنی حکمرانوں سے ٹکراؤ چھوڑ کر عوامی سطح پر اسلام کی تعلیمات کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنا۔ بعد کے دور کے علماء اور اہل دین اگر اپنے ہم عصر بادشاہوں کو تخت سے بے دخل کرنے کے لیے ان سے سیاسی ٹکراؤ کرتے تو مسلم ملکوں کا وہی انجام ہوتا جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page