راہِ عمل
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے میں، مثال کے طور پر، مصر اور پاکستان میں نظر آتا ہے۔ ان ملکوں میں اینٹی حکمراں سیاست کے نتیجے میں بربادی اور تخریب کاری کے سوا کسی اور چیز کی تاریخ نہ بن سکی۔ جب کہ اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کرنے کی وجہ سے ایک ہزار سال تک اسلام کی تعمیر اور اس کی اشاعت کا کام نہایت طاقت ور انداز میں جاری رہا۔ سیاسی بدعت امام حسینؓ کے واحد استثناء کو چھوڑ کر پوری اسلامی تاریخ امام حسنؓ کے نمونۂ عمل (رول ماڈل) پر چلتی رہی۔ صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علماء، صوفیاء وغیرہ جو امت کے نمائندہ گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں ، وہ سب کے سب ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک اسی روش پر چلتے رہے۔ موجودہ زمانے میں بھی امت کا نمائندہ طبقہ بڑی حد تک اسی روش پر قائم ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مسجد اور مدرسہ کو بنیاد بنا کر دینی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یا علمی اداروں اور دینی تنظیموں کی صورت میں انہوں نے غیر سیاسی دائرے میں اپنے لیے دینی کام تلاش کر لیے ہیں اور ان میں وہ یکسوئی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ حدیث کے الفاظ میں، ہر ایک اپنے ”اونٹ“ اور پانی ” بکری “ سے وابستہ ہو کر خدمت دین میں مصروف ہے۔ یہ لوگ امت کو کچھ دے رہے ہیں۔ جب کہ اسلامی سیاست داں صرف یہ کر رہے ہیں کہ جو کچھ امت کو حاصل ہے، اس سے اسے محروم کر دیں۔ بیسویں صدی کے وسط سے امت مسلمہ کے اندر ایک نیا مظہر پیدا ہوتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ تمام مسلم ممالک مغرب کے سیاسی قبضے سے آزاد ہو گئے۔ اس وقت چھوٹے بڑے تقریباً 50 مسلم ملک دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی ملکوں میں ایسی تحریک ابھری ہے جو اس سے پہلے کبھی مسلم دنیا میں نہیں پائی گئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader