راہِ عمل
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
تھی ۔ یہ وہی ہے جس کو ”اسلامی سیاست“ کی تحریک کہا جاتا ہے۔ ان تحریکوں سے وابستہ افراد اپنے ملک کے حکمرانوں سے اس عنوان پر لڑ رہے ہیں کہ انہوں نے ملک میں اسلامی قانون نافذ نہیں کیا۔ وہ موجودہ حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹا کر دوسرے افراد لانا چاہتے ہیں جو ان کے خیال کے مطابق اسلامی قانون کا نظام قائم کر سکیں گے۔ یہ گویا ایک اعتبار سے ، امام حسینؓ کے رول ماڈل کو زندہ کرنے کے ہم معنی ہے۔ تاہم امام حسینؓ میں اور موجودہ اسلامی لیڈروں میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ امام حسینؓ صرف لڑے تھے، جب کہ موجودہ اسلامی لیڈر اپنی لڑائی کو ایک مستقل فلسفہ یا قرآن وحدیث کی ایک نئی سیاسی تعبیر بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ اس طرح موجودہ اسلامی لیڈروں کا معاملہ بہت زیادہ سنگین معاملہ بن جاتا ہے ۔ کیوں کہ وہ نہ صرف یہ کہ ایک ممنوعہ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے اپنی ممنوعہ لڑائی کو درست ثابت کرنے کے لیے قرآن کی ایک خود ساختہ تعبیر بھی کر ڈالی ہے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے معنوی تحریف کے ہم معنی ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ”تعبیر کی غلطی“) اجماع امت اسلام کے اصولوں میں سے ایک مستقل اصول یہ ہے کہ اہل الامر ( ارباب حکومت) سے نزاع نہ کی جائے ، حتی کہ اس وقت بھی نہیں ، جب کہ بظاہر وہ غلط نظر آتے ہیں۔ اس حکم کا مقصد اصلاح کا جذبہ رکھنے والوں کی توجہ کو سیاست سے موڑ کر غیر سیاسی میدانوں میں تعمیر کی طرف لگانا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر سلف سے خلف تک امت کا اجماع ہے۔ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد المحسن الترکی (مدیر جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ، ریاض) نے 18-22 اپریل 1987 ء کو جامعۃ الازہر ، قاہرہ کی کانفرنس میں ایک مقالہ پیش کیا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader