راہِ عمل
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا عنوان تھا: منهج الدعوة الی اللہ ۔ اس مقالے میں انہوں نے سلف صالحین کے عقیدے کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا تھا، اس مقالے کا ایک حصہ یہ ہے: وَلَا نَرَى الخُرُوجَ عَلَى أَئِمَّتِنَا وَوُلَاةِ أُمُورِنَا وَإِنْ جَارُوا، وَظَلَمُوا، وَلَا نَدْعُو عَلَيْهِمْ، وَلَا نَنْزِعُ يَدًا مِنْ طَاعَتِهِمْ، وَنَرَى طَاعَتَهُمْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فريضة، الاستحضار الدَّائِمِ لِمَنْهَجِ أَهْلِ السُّنَّةِ فِي هَذِهِ النُّقْطَةِ وَهِي: إِلَّا يُنَازِعَ الدُّعَاةُ الْأَمْرَ أَهْلَه (صوت الامة، بنارس رجب 1408ھ، صفحہ 23-15) یعنی اور ہم اپنے سربراہ ہوں اور حاکموں کے خلاف بغاوت کو صحیح نہیں سمجھتے، خواہ وہ ظلم اور زیادتی کریں۔ اور ہم ان کے خلاف بد دعا نہیں کرتے۔ اور ہم ان کی اطاعت سے دست کش نہیں ہوتے۔ اور ہم ان کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت کے ساتھ فرض سمجھتے ہیں۔ اہل سنت کے طریقہ کے اس پہلو کا مستقل استحضار رہنا چاہیے کہ داعی کبھی بھی اہل امر سے نزاع نہ کرے۔ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد المحسن الترکی نے اوپر کی سطروں میں جو بات کہی ہے، وہ اہل سنت کے طریقے کی نہایت صحیح ترجمانی ہے۔ ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے سے اہل سنت کا یہی اجماعی مسلک ہے کہ داعی اور مصلح غیر سیاسی دائرے میں دعوت اور اصلاح کا کام کرے ۔ وہ ارباب حکومت کو تخت سے بے دخل کرنے کو ہرگز اپنی جدوجہد کا نشانہ نہ بنائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ داعی اور مصلح کے لیے ہر دور میں صحیح رول ماڈل امام حسن رضی اللہ ہے، نہ کہ امام حسینؓ کا۔ ناقص استدلال موجودہ زمانے میں جن لوگوں نے دین کی سیاسی تعبیر کی ہے، ان میں سے ایک مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ہیں۔ ان کی تنظیم جماعت اسلامی، اور مصر کی الاخوان المسلمون، دونوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader