Urdu book · راہِ عمل

ناقص استدلال

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے اپنے علاقے میں اپنے حکمرانوں کے خلاف سیاسی جہاد میں مشغول ہیں۔ یہ عین وہی عمل ہے جس کو قدیم اصطلاح میں خروج کہا جاتا تھا، یعنی سیاسی بگاڑ کو درست کرنے کے نام پر حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلانا۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اس فکر کے ممتاز وکیل سمجھے جاتے ہیں۔ وہ کس طرح اس سیاسی انحراف کی توجیہ کرتے ہیں، اس سلسلے میں یہاں ان کی تحریروں کے دواقتباس نقل کیے جاتے ہیں۔ تفہیم القرآن میں سورہ الحجرات (آیت 9) کے تحت انہوں نے یہ بحث چھیڑی ہے کہ ان لوگوں کی شرعی حیثیت کیا ہے جو ایک ایسی حکومت کے خلاف خروج کریں جو ان کی نظر میں ظالم حکومت ہو ”جس کی امارت (ان کے خیال کے مطابق) جبراً قائم ہوئی ہو۔ اور جس کے امراء فاسق ہوں۔ اور خروج کرنے والے (اپنے اعلان کے مطابق) عدل اور حدود اللہ کی اقامت کے لیے اٹھے ہوں۔ اور ان کا ظاہر حال یہ بتا رہا ہو کہ وہ صالح لوگ ہیں۔ اس صورت میں ان کو باغی، یعنی زیادتی کرنے والا گروہ قرار دینے اور اس کے خلاف جنگ کو واجب قرار دینے میں فقہاء کے درمیان سخت اختلاف واقع ہو گیا ہے۔“ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ جمہور فقہاء اور اہل الحدیث کی رائے یہ ہے کہ جس امیر کی امارت ایک دفعہ قائم ہو چکی ہو، اور مملکت کا امن و امان اور نظم و نسق اس کے انتظام میں چل رہا ہو، وہ خواہ عادل ہو یا ظالم، اور اس کی امارت خواہ کسی طور پر قائم ہوئی ہو، اس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے، الاّ یہ کہ وہ کفر صریح کا ارتکاب کرے۔ امام سرخسی لکھتے ہیں کہ جب مسلمان ایک فرماں روا پر مجتمع ہوں اور اس کی بدولت ان کو امن حاصل ہو اور راستے محفوظ ہوں۔ ایسی حالت میں اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ اس کے خلاف خروج کرے تو جو شخص بھی جنگ کی طاقت رکھتا ہو اس پر واجب ہے کہ مسلمانوں کے اس فرماں روا کے ساتھ مل کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page