ناقص استدلال
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
خروج کرنے والوں کے خلاف جنگ کرے۔ امام نووی شرح مسلم میں کہتے ہیں کہ ائمہ، یعنی مسلمان فرماں رواؤں کے خلاف خروج اور قتال حرام ہے، خواہ وہ فاسق اور ظالم ہی کیوں نہ ہوں، اس پر امام نووی اجتماع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ (تفہیم القرآن، جلد 5، صفحہ 80-79) مذکورہ اقتباس اپنی تردید آپ ہے۔ اس میں صاحب مضمون ایک طرف یہ اقرار کر رہے ہیں کہ ”جمہور فقہاء اور اہل الحدیث“ کی رائے یہ ہے کہ قائم شدہ مسلم حکومت کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ دوسری طرف اسی عبارت میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بارے میں ”فقہاء کے درمیان سخت اختلاف واقع ہو گیا ہے۔“ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ کیوں کہ جس فعل کو ”جمہور فقہاء“ حرام قرار دے رہے ہوں، اسی کے بارے میں فقہاء کے درمیان ”سخت اختلاف“ کیسے واقع ہو جائے گا۔ ایک ہی عبارت میں اس قسم کا متضاد بیان ظاہر کرتا ہے کہ مصنف اس معاملے میں اپنے آپ کو بے دلیل محسوس کر رہے ہیں۔ اس لیے بوکھلاہٹ میں وہ ایسی باتیں کہہ رہے ہیں ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔ جو خود ہی ایک دوسرے کی تردید ہیں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے مذکورہ عبارت کے بعد بعض فقہاء اور علماء کی رائیں پیش کر کے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے نزدیک بگڑے ہوئے مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا جائز بلکہ ضروری ہے۔ مگر تقریباً چار صفحہ کی یہ پوری بحث سراسر ناقص اور غیر علمی ہے۔ مثلاً اس میں سیاسی تنقید کے جواز کو سیاسی بغاوت کے جواز کے ہم معنی سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ دونوں کی نوعیت بالکل جداگانہ ہے۔ لفظی تنقید، حسن نیت کی شرط کے ساتھ، کسی بھی شخص کے بارے میں کی جاسکتی ہے۔ مگر کسی کے خلاف عملی اقدام کی اس طرح آزادانہ اجازت نہیں۔ امام ابو حنیفہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ظالم امراء کے خلاف قتال کو نہ صرف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader