ناقص استدلال
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
جائز سمجھتے تھے، بلکہ اس قتال کو اہل کفر کے خلاف جہاد سے بھی زیادہ افضل قرار دیتے تھے۔ یہ بلاشبہ ایک لغو بات ہے۔ خود مولانا مودودی کے بیان کے مطابق، امام ابو حنیفہ کے زمانہ میں مسلم سلاطین میں ظلم و جبر آچکا تھا۔ مگر امام ابو حنیفہ نے ان کے خلاف کبھی قتال نہیں کیا۔ ان کے ممتاز شاگرد امام ابو یوسف نے انہیں حکمرانوں کے تحت قضا کا سرکاری عہدہ قبول کر لیا۔ پھر کیا امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف بزدل اور مصلحت پرست تھے۔ کیا ان کا قول کچھ تھا اور ان کا عمل کچھ۔ اسی طرح اس بحث میں غیر متعلق باتوں کو اپنے نظریہ کی دلیل بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ مثلاً کہا گیا ہے کہ حضرت علی نے ”جنگ جمل میں فتح یاب ہونے کے بعد اعلان کیا کہ بھاگنے والے کا تعاقب نہ کرو، زخمی پر حملہ نہ کرو، گرفتار ہو جانے والوں کو قتل نہ کرو، جو ہتھیار ڈال دے اس کو امان دو، لوگوں کے گھروں میں نہ گھسو، اور عورتوں پر دست درازی نہ کرو، خواہ وہ تمہیں گالیاں ہی کیوں نہ دے رہی ہوں۔ آپ کی فوج کے بعض لوگوں نے مطالبہ کیا کہ مخالفین کو اور ان کے بال بچوں کو غلام بنا کر تقسیم کر دیا جائے۔ اس پر غضب ناک ہو کر آپ نے فرمایا، تم میں سے کون ام المومنین عائشہ کو اپنے حصے میں لینا چاہتا ہے؟“۔ (صفحہ 82-81) اس طرح کے اقوال اور احکام کو مولانا مودودی نے بظاہر مسلک بغاوت کا جواز ثابت کرنے کے لیے نقل کیا ہے۔ حالانکہ ان اقوال اور احکام کا اس قسم کے مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تمام حوالے ”حکمران کیا کرے“ کے مسئلہ سے تعلق رکھتے ہیں، نہ کہ ”باغی کیا کریں“ کے مسئلے سے۔ یہ اقوال و احکام حکمران کے خلاف مسلمانوں کی بغاوت کو جائز قرار نہیں دیتے ۔ وہ صرف یہ بتاتے ہیں کہ جب کچھ مسلمان اپنی نادانی یا سرکشی سے مسلم حکمران کے خلاف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader