Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

بغاوت کا اقدام کر بیٹھتیں تو حکمراں کو چاہیے کہ وہ ان کے ساتھ اسلامی شرافت والا معاملہ کرے ۔ وہ ان کے ساتھ عام دشمنوں جیسا سلوک نہ کرے ، جیسا کہ ام المومنین عائشہ کے بارے میں حضرت علی کے قول سے واضح ہورہا ہے ۔ نمونہ کا مسئلہ ماہنامہ ترجمان القرآن ، لاہور میں مولانا ابو الکاعلی مودودی کی ایک تقریر نمایاں طور پر شائع کی گئی ہے جو انہوں نے 10 جون 1962 ء کو لاہور میں کی تھی اور ان کی زندگی ہی وہ اخبار ایشیاء لاہور ، 12 جون 1962 میں چھپی تھی ۔ اس مطبوعہ تقریر کا عنوان یہ ہے : حضرت حسین رض سے نمونہ لیجیے ۔ اس تقریر کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے : ” اگر حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو اور غیر اسلامی طریقے سے چلائی جا رہی ہو تو مسلمانوں کو سخت الجھن پیش آتی ہے ۔ قوم مسلمان ہے ، حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے مگر چلائی جا رہی ہے غیر اسلامی طریقے پر ، تو اس حالت میں ایک مسلمان کیا کرے ۔ اگر حضرت حسین رض ان حالات میں نمونہ پیش نہ کرتے تو کوئی صورت رہنمائی کی نہ تھی ۔ اگر کسی مسلمان حکومت کا بگاڑ جزئیات میں ہے تو نظم و نسق درہم برہم کرنے کی کوشش روانہ ہوگی ، مگر جب بادشاہ یا خلیفہ نے اس حکومت کو موروثی بنانے کی کوشش کی تو اصولی تغیر واقع ہو گیا۔ ایک خاندان نے حکومت کو اپنی جائیداد بنانے کا فیصلہ کر لیا تو انہوں نے اس کے روکنے کا فیصلہ کر لیا۔ خواہ اس میں ان کی جان جائے اور ان کا بچہ بچہ کٹ جائے۔ حضرت حسین رض نے یہ نمونہ پیش کیا کہ اگر حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو اور وہ غلط راہ پر جارہی ہو تو اس کے خلاف جدوجہد درست ہے۔ یہ حضرت حسین رض کا نمونہ تو ہے جو مسلمان حکومت کے بگاڑ کے وقت مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اگر اس نمونے کو بھی چھوڑ دیا جائے تو نمونہ کہاں سے آئے گا۔ معاملہ صرف یہ نہیں کہ جگر گوشۂ رسول کو قتل کر دیا گیا اور ہم نوحہ خوانی کے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page