نمونہ کا مسئلہ
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
بیٹھے ہیں، بلکہ نمونہ حاصل کرنے کا ہے۔ “ (ترجمان القرآن، ستمبر 1987)۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے یہ تقریر اپنی اس سیاست کے جواز میں کی ہے جو انہوں نے پاکستان کے قیام (1947) کے بعد پاکستان میں چلائی اور جس پر وہ اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک قائم رہے۔ یعنی پاکستان کے مسلم حکمرانوں کو ”غیر صالح“ قرار دے کر ان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلانا اور اس میں ہر وہ طریقہ اختیار کرنا جو موجودہ زمانے کی سیاسی جماعتیں اختیار کرتی ہیں۔ اس تقریر میں مولانا ابو الاعلیٰ مودودی یہ اقرار کر رہے ہیں کہ ان کی نام نہاد اسلامی سیاست کی تبریر (justification) کے لیے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل میں نمونہ ہے اور نہ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ کرام کی زندگیوں میں ۔ ان کے لیے نمونہ نہ تابعین میں ہے اور نہ تبع تابعین میں، نہ محدثین میں ہے اور نہ فقہاء میں ۔ نہ علماء میں ہے اور نہ صوفیاء میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معیاری دور سے لے کر 1400 برس تک اٹھنے والے اکابر امت میں ان کے لیے نمونہ نہیں۔ ان کے لیے اگر نمونہ ہے تو صرف ایک نوجوان حسین ابن علی میں جس کے اقدام کو علماء امت نے متفقہ طور پر اجتہادی خطا قرار دیا ہے۔ صاحب تقریر کا یہ یقین اس کے باوجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں امام حسینؓ کے اس سیاسی عمل کی تائید موجود نہیں۔ ان کے ہم عصر ہزاروں اصحاب رسول میں سے کوئی ایک صحابی بھی اس معاملے میں ان سے متفق نہ تھا۔ بعد کی تاریخ میں امت کے کسی بھی نمائندہ طبقے نے ان کے عمل کو اپنے لیے نمونہ نہیں بنایا۔ حتیٰ کہ خالص تاریخی اعتبار سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ خود امام حسینؓ کا اقدام فی الواقع وہی نوعیت رکھتا تھا جو مولانا مودودی جیسے لوگ آج ہم کو بتا رہے ہیں۔ ان تمام غیر موافق پہلوؤں کے باوجود مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کو یہ اصرار ہے کہ وہ امام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader