راہِ عمل
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
حسینؓ کے نمونے کو اپنے لیے نمونہ بنائیں گے۔ اگر کسی طرز عمل کو دینی اور شرعی ثابت کرنے کے لیے مذکورہ بالا دلیل کافی ہو تو مجھے معلوم نہیں کہ اس دنیا میں کون سا عمل اور کون سی روش ایسی ہے جس کو دینی اور شرعی اعتبار سے جائز اور ضروری ثابت نہ کیا جا سکے۔ موجودہ زمانے کا تجربہ موجودہ زمانے میں، نتائج کے اعتبار سے، دوبارہ وہی دو مختلف مثالیں قائم ہوئی ہیں جن کے نمونے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں حسنینؓ کے ذریعے سامنے آئے تھے۔ جن مسلم رہنماؤں نے حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ کو نشانہ بنا کر کام کیا، وہ امت کی تاریخ میں بربادی اور محرومی کے سوا کسی اور چیز کا اضافہ نہ کر سکے۔ اس کی واضح مثالیں مصر اور پاکستان میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مصر میں الاخوان المسلمون کے لوگ اس بات کے چیمپیئن بنے تھے کہ حکومت پر قبضہ کر کے ملک کے اندر اسلامی سماج کی تشکیل کریں۔ مگر تقریباً نصف صدی کی ہنگامہ خیز کوشش کے بعد معلوم ہوا کہ یہ طریق کار گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے کے ہم معنی تھا۔ چنانچہ وہ سراسر ناکام رہا۔ امریکہ سے مسلمانوں کا ایک انگریزی جرنل نکلتا ہے جس کا نام اسلامک سوشل سائنسز ہے۔ اس کے شمارہ ستمبر 1987 ء میں سوڈان کے اخوانی لیڈر ڈاکٹر حسن ترابی کا ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ریاست، اسلام کا صرف ایک سیاسی اظہار ہے۔ آپ ایک اسلامی ریاست نہیں بنا سکتے جب تک آپ نے ایک اسلامی معاشرہ نہ بنایا ہو: “The state is only the political expression of an Islamic society. You cannot have an Islamic state insofar as you have an Islamic society.” (p. 1)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader