راہِ عمل
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے برعکس، مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے سیاست سے الگ رہ کر دوسرے اصلاحی میدانوں میں اپنی کوششیں صرف کیں ۔ ان سے امت کو واضح قسم کے مثبت فائدے حاصل ہوئے ۔ اس کی ایک مثال تبلیغی جماعت ہے۔ تبلیغی جماعت سے امت کو مسلّمۂ طور پر دینی فائدے حاصل ہوئے ہیں۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ بلاشبہ یہی ہے کہ اس جماعت نے حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ کو اپنا نشانہ نہیں بنایا، بلکہ اپنی تمام سرگرمیاں یکسوئی کے ساتھ غیر سیاسی دائرے میں مرتکز کر دیں۔ ناکامی کا اعتراف الاخوات المسلمون 1928ء میں قائم ہوئی۔ 1938ء میں اس نے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ بہت جلد اس کے اثرات اکثر عرب ملکوں میں پھیل گئے۔ اس جماعت کا فکر یہ تھا کہ حکومت کا ادارہ سب سے زیادہ طاقت ور ادارہ ہے۔ وہی سماج کی صورت گری کرتا ہے۔ اس لیے سماج کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کے ادارے پر قبضہ کیا جائے۔ اس تحریک کے زیر اثر اس کے افراد مختلف عرب ملکوں کی حکومتوں سے ٹکرا گئے۔ انہوں نے حکمراں افراد کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں ساری طاقت لگا دی۔ یہی کام پاکستان میں وہاں کے اسلام پسندوں کے ذریعہ 1947ء میں شروع ہوا جو آج تک برابر جاری ہے۔ مگر پچھلی نصف صدی کی کوششوں کے نتائج مکمل طور پر برعکس صورت میں برآمد ہوئے ہیں۔ ان حضرات کی کوششوں نے مسلم معاشروں کے فساد اور بربادی میں تو ضرور اضافہ کیا مگر وہ ان کو تعمیر اور اصلاح کی طرف لے جانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مزید یہ کہ ان ہنگامہ خیز کوششوں کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ مصر اور پاکستان دونوں جگہ سیکولر افراد حکومت کے شعبوں پر قابض ہیں، اور اسلام پسندوں کا اقتدار میں کوئی حصہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader