ناکامی کا اعتراف
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر عبداللہ بن عبد المحسن الترکی کے جس مقالے کا اوپر حوالہ دیا گیا، اس میں موصوف نے بجاطور پر کہا ہے کہ معاشرہ چھلانگ کے ذریعہ نہیں بدلتا، اس کو صرف تدرج کے ذریعہ بدلا جا سکتا ہے: اِنَّ الْمُجْتَمَعَاتِ لَا تَتَغَيَّرُ بِالطَّفْرَةِ بَلْ بِالتَّدْرِيجِ۔ (صوت الامۃ، بنارس رجب 1408 ھ، صفحہ 21) اصل یہ ہے کہ صالح حکمران صالح معاشرہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جب بھی حکمراں میں بگڑ نظر آئے تو مصلحین کو معاشرے کی اصلاح میں سرگرم ہو جانا چاہیے ۔ کیوں کہ صالح معاشرے کی زمین ہی سے صالح حکمران برآمد ہو گا۔ ایسی حالت میں حکمران سے سیاسی جنگ شروع کرنا صرف حالات کو مزید بگاڑنے کے ہم معنی ہے۔ اس کی زندہ مثال پاکستان ہے۔ پاکستان جن علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس کے باشندوں کی دینی و اخلاقی حالت 1947 ء سے پہلے اس سے بہتر تھی جو آج وہاں پائی جارہی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد وہاں کے اسلام پسند رہنما، حکمراںوں کے خلاف سیاسی لڑائی لڑنے میں مشغول ہو گئے۔ اس لڑائی میں وہ یہاں تک گئے کہ انہوں نے تمام روایتیں توڑ ڈالیں۔ مثلاً سیاسی قتل، سطحی مظاہرے، عوام پسند نعرے، سیاسی پارٹیوں والے ہتھکنڈے، ناجائز کو جائز اور جائز کو ناجائز کرنا (مثلاً فاطمہ جناح کی صدارت ) اسلامائزیشن کے نام پر کوڑے اور پھانسی کی سیاست، وغیرہ۔ ان چیزوں کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ پاکستان کے عوام کو اسلام سے اور علماء سے نفرت ہو گئی۔ 45 سالہ اسلامی سیاست کے بعد نومبر 1988ء میں جب عوام کو آزادانہ انتخاب کا موقع ملا تو پہلے ہی الیکشن میں انہوں نے اسلام پسندوں کو ہرا کر سیکولر لیڈروں کو کامیاب کر دیا۔ موجودہ زمانے میں نام نہاد اسلامی سیاست کی ناکامی ، بلکہ اس کا الٹا نتیجہ برآمد ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس کو خود اس حلقہ کے سنجیدہ لوگ اب تسلیم کر رہے ہیں۔ اس کی ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader