Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

مثال اخوانی رہنما ڈاکٹر حسن ترابی کا وہ مقالہ ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ یہ بات جو ان رہنماؤں کو اب معلوم ہوئی ہے، وہ انہیں نصف صدی کے ناکام تجربے سے پہلے ہی معلوم ہو سکتی تھی۔ بشرطیکہ انہوں نے سنتِ رسول کا گہرا مطالعہ کر کے اپنی تحریک شروع کی ہوتی۔ الاخوان المسلمون (اور اسی طرح پاکستان کی اسلام پسند جماعت) کا آغاز بطور ردعمل ہوا۔ اپنے قریبی سیاسی حالات سے متاثر ہو کر وہ حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس کے برعکس، اگر وہ ایسا کرتے کہ تحریک شروع کرنے سے پہلے سنتِ رسول کا گہرا مطالعہ کرتے تو وہ اس معاملے میں اصل حقیقت کو اوّل دن ہی پا سکتے تھے۔ اس کے بعد ان کی تحریک صحیح اسلامی رخ پر چلتی، اور بالآخر صحیح اسلامی انجام تک پہنچتی۔ نو آبادیاتی زمانہ انیسویں صدی کا نصف ثانی اور بیسویں صدی کا نصف اول مسلمانوں کے لیے بے حد اہم زمانہ ہے۔ عمومی طور پر ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے اور خصوصی طور پر برصغیر ہند کے مسلمانوں کے لیے یہ سو سال گویا تشکیل ذہن کے سو سال ہیں۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت کمزور ہوئی اور ان کی حکومتیں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر مغربی قوموں کے قبضے میں چلی گئیں۔ اس وقت مسلمانوں میں سیاسی مصلحین اٹھے۔ جمال الدین افغانی (1897-1838) سے لے کر ابو الکلام آزاد (1958-1888) تک ہزاروں چھوٹے بڑے رہنما ہیں جو اس دور میں نمایاں ہوئے۔ ان لوگوں کی ساری توجہ مسلم اقتدار کے دَور کو واپس لانے پر لگی ہوئی تھی۔ ان کی تمام کوششوں کا واحد مرکز یہ تھا کہ مغربی غلبہ ختم ہو اور مسلمانوں کا غلبہ دوبارہ لوٹ آئے۔ اس نوعیت کے کام کے لیے جہاد و قتال کی باتیں زیادہ موزوں تھیں۔ چنانچہ تمام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page