Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

رہنماؤں پر کامل طور پر یہی ذہن چھایا رہا۔ اس نوعیت کے کام کے لیے امام حسنؓ کا رول ماڈل موزوں نہ تھا۔ بلکہ امام حسینؓ کا رول ماڈل موزوں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ اسلامی تاریخ میں پہلی بار حسینؓ کے رول ماڈل کو مبالغہ آمیز طور پر نمایاں کرنے کا کام کیا گیا۔ حسینؓ کے کردار کو اتنا زیادہ گلوریفائی کیا گیا کہ وہ ہر دوسری چیز پر چھا گیا۔ اس پوری مدت میں حسنؓ کے رول ماڈل پر، میرے علم کے مطابق، کوئی ایک بھی قابل ذکر کتاب یا مضمون شائع نہ ہوسکا۔ جب کہ اسی مدت میں حسینؓ کے رول ماڈل پر بلا مبالغہ لاکھوں کی تعداد میں کتابیں، مضامین اور اشعار لکھے گئے۔ حسینؓ کو ایک خیالی ہیرو کے روپ میں پیش کیا گیا جس کا تاریخی حسینؓ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس عمل پر اب کئی نسلیں بیت چکی ہیں۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کی موجودہ پوری نسل حسینؓ کے رول ماڈل کے سحر میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ہر آدمی ہر وقت لڑنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ وہ اپنی بے معنی لڑائی کو جہاد اور بے معنی موت کو شہادت سے کم نہیں سمجھتا۔ کسی شاعر کا یہ شعر موجودہ مسلمانوں کی نفسییات کے بارے میں نہایت صحیح ہے: گھیر لیتا ہے جب ان کو باطل کہیں دل کے اندر سے کہتا ہے کوئی بزن موجودہ مسلم نسل کے ذہن کے اس بگاڑ کی ذمہ داری موجودہ دور کے تمام مسلم رہنماؤں پر ہے جنہوں نے مفروضہ ’’شہادت کبریٰ‘‘ کو اس قدر گلوریفائی کیا کہ مسلمانوں کے سامنے اب اس کے سوا اور کوئی فکر یا اور کوئی رول ماڈل باقی ہی نہ رہا جس پر وہ سوچیں اور جس پر عمل کرنے کے لیے ان کے اندر تڑپ پیدا ہو۔ میدانِ عمل کا مسئلہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اس راز کو نہیں جانا کہ ایک میدان میں مواقع کا چھن جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر اعتبار سے کام کا موقع چھن گیا۔ زندگی اس سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page