Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

زیادہ وسیع ہے کہ کوئی شخص اس کی حد بندی کر سکے۔ چنانچہ جب کسی شخص یا قوم کے لیے ایک میدان میں عمل کے دروازے بند ہوتے ہیں تو عین اسی وقت کسی اور میدان میں اس کے لیے عمل کے شاندار دروازے کھل جاتے ہیں۔ دانش مند وہ ہے جو بند دروازے پر اپنا سر نہ پٹکے، بلکہ جو دروازہ کھلا ہوا ہے، اس کو استعمال کر کے آگے بڑھ جائے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں جاپان کی مثال درج کی جاتی ہے۔ جاپان کی مثال دوسری عالمی جنگ سے پہلے جاpani ایک عسکری قوم (militarist people)کی حیثیت رکھتے تھے۔ 1945ء میں جاپان امریکی فوج کے مقابلے میں ہار گیا۔ اس کے بعد جنرل میک آرتھر (Douglas Mac Arthur) کو جاپان کا سپریم کمانڈر بنایا گیا۔ وہ 1945ء سے 1951ء تک جاپان کے فوجی حکمراں رہے۔ امریکی پالیسی کے تحت میک آرتھر کا خاص مشن یہ تھا کہ جاپان کی فوجی طاقت کو توڑیں اور اس کی عسکریت کو ختم کریں۔ اس مقصد کے لیے میک آرتھر نے وہ تدبیر اختیار کی جس کو رخ پھیرنا (diversion)کہا جاتا ہے۔ یعنی جاپانیوں کو سیاسی ٹکراؤ سے ہٹا کر تعلیم اور صنعت کے میدان میں سرگرم کرنا۔ جاپان میں جنرل میک آرتھر کے مقصد کو، ایک جملہ میں، اس طرح بیان کیا گیا ہے — اس جنگجو قوم کے جذبہ عمل کو عسکریت سے ہٹا کر معاشی میدان میں سرگرم کرنا: “To channel the drive of this aggressive people away from militarism and into economic ambition.” اب جاپان کے لیے دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ وہ میک آرتھر کے منصوبے کو ”امریکی سازش“ قرار دے کر اس کے خلاف احتجاج اور ٹکراؤ کا منفی عمل شروع کر دے۔ دوسرے یہ کہ وہ پیش آمدہ صورت حال کو مان لے اور اس کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے لیے نیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page