Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

مستقبل بنانے کی کوشش کرے۔ جاپان نے پہلے طریقے کو چھوڑ کر دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ جنگ کے بعد کی چالیس سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ جاپان کی پالیسی نہایت کامیاب رہی۔ جاپان اگرٹکراؤ کے راستے پر چلتا تو اس کے بعد یہ ہوتا کہ امریکہ سے دوبارہ لڑائی چھڑ جاتی۔ جاپان کے بچے ہوئے وسائل بھی برباد ہو جاتے۔ مگر جب اس نے امریکی منصوبے سے موافقت کر لیا تو اس کو امریکہ سے زبردست تعاون ملا۔ وہ امریکہ کی ”چھتری“ کے نیچے صنعتی ترقی کرنے لگا۔ اس طریقے پر عمل کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان نے نصف صدی سے کم عرصے میں پہلے سے بھی زیادہ بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ حتیٰ کہ خود فاتح امریکہ کو اپنے مقابلے میں بالآخر دفاعی حیثیت میں ڈال دیا۔ موجودہ دنیا میں یہی زندگی اور ترقی کا راز ہے۔ یہاں دشمن کی تخریبی سازشوں میں اپنے لیے تعمیری پہلو در یافت کرنا پڑتا ہے۔ یہاں اغیار کے مخالفانہ منصوبوں کو اپنے موافق زینے کے طور پر استعمال کرنا ہوتا ہے۔ جو لوگ اس دانش مندی کا ثبوت دیں، وہی امتحان کی اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں۔ جو لوگ اس بر تر عقل کا ثبوت نہ دے سکیں، ان کے لیے اس دنیا میں ناکامی اور بر بادی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔ فوج سے زیادہ طاقت ور دوسری عالمی جنگ کے بعد نومبر 1946ء میں جاپان کا جو نیا دستور بنا اس کے مصنف امریکی جنرل ڈگلس میک آرتھر تھے۔ انہوں نے اس دستور کے دفعہ 9 کے تحت جاپان کو ہمیشہ کے لیے اس بات کا پابند کر دیا تھا کہ وہ کبھی بھی زمینی، بڑی یا ہوائی فوج نہیں رکھے گا۔ اور نہ کسی قسم کی دوسری جنگی تیاری کرے گا: “Land. sea, and air forces, as well as other war Potential, will never be maintained." (Encyclopedia Britannica, 10/87)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page