Urdu book · راہِ عمل

روس کی مثال

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے زیادہ بہتر سمجھنے لگے۔ یہ صورت حال برطانیہ کے لیے اس کی سلطنت کے مشرقی حصے میں ایک خطرہ کے ہم معنی تھی۔ چنانچہ نومبر 1918ء میں انگریز فوجی افسروں کا ایک وفد سمرقند بھیجا گیا تا کہ وہ تازہ صورت حال کا جائزہ لے کر اس کے بارے میں رپورٹ پیش کرے ۔ یہ ایک خفیہ وفد تھا۔ چنانچہ ظاہری طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ : ایک تجارتی وفد ہے اور وسط ایشیا کی کپاس کا سودا کرنے جا رہا ہے۔ وفد کے ممبران یہ تھے: کرنل بیلی ( F.M. Bailey ) کرنل ایتھرٹن ( P.T. Etherton ) میجر بلیکر ( L.V.S. Blacker ) اس وفد نے روسی علاقے میں پہنچ کر اس مقصد کے تحت وہاں کا جائزہ لیا جس کے لیے وہ بھیجا گیا تھا۔ واپسی کے بعد کرنل ایتھرٹن نے ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا— وسط ایشیا کے قلب میں: “In the Heart of Central Asia” مصنف نے اپنی کتاب میں جو باتیں لکھیں ، ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ بالشویکوں ( کمیونسٹوں ) کے نئے نظریات جن کو لے کر وہ بڑھ رہے ہیں، وہ بالقوہ طور پر مشرق میں انگریزی غلبے کے لیے اس سے زیادہ بڑا خطرہ ہیں جتنا کہ ماضی میں شہنشاہ زار کی تمام فوجیں ہو سکتی تھیں : “The new set of ideas of the Bolsheviks was potentially much more of a menace to English domination in the Orient than all the Czar's armies in the past." (pp. 92-93) بیسویں صدی کے آغاز میں شہنشاہ زار کے پاس ہر قسم کی فوجی طاقت تھی۔ اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page