ہندوستانی مسلمانوں کی جدید تاریخ
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ اس معاملے میں ناقابل فہم حد تک نادان ثابت ہوئے۔ ان کی جھوٹی برتری کا احساس ان کے لیے مذکورہ جاپانی طریقے کو اختیار کرنے میں مانع بن گیا۔ انہوں نے کامل بے سروسامانی، اور اسی کے ساتھ کامل بے خبری کے باوجود، انگریزوں سے ایک ایسی بے معنی جنگ شروع کر دی جس کا سارا فائدہ انگریزوں کے حق میں جانے والا تھا اور جس کا سارا نقصان خود مسلمانوں کے حق میں۔ انگریزوں نے اپنے دور اقتدار میں مسلمانوں کے ساتھ عین وہی تدبیر اختیار کرنا چاہا جو دوسری عالمی جنگ کے بعد میک آر تھر نے جاپانیوں کے ساتھ اختیار کیا تھا۔ یعنی مسلمانوں کی توجہ سیاسی ٹکراؤ سے ہٹا کر تعلیم اور تبلیغ کی طرف موڑ دینا۔ مگر مسلمان بحیثیت قوم اس ہوش مندی کا ثبوت نہ دے سکے جس کا ثبوت خود اس ملک میں ہندوؤں نے اور جاپان میں زیادہ بڑے پیمانے پر جاپانیوں نے دیا تھا۔ اس بات کی وضاحت کے لیے یہاں میں صرف دو مثالیں دینا چاہتا ہوں۔ قدیم ایم اے او کالج (موجودہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) میں ایک انگریز پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ تھے۔ انہوں نے 500 صفحات پر مشتمل ایک انگریزی کتاب لکھی جس کا نام دعوتِ اسلام (The Preaching of Islam) تھا۔ یہ کتاب پہلی بار 1896ء میں چھپی۔ اس کتاب میں دکھایا گیا تھا کہ اسلام کی اصل طاقت دعوت ہے۔ اسلام اپنی پوری تاریخ میں دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے پھیلا ہے۔ اپنی دعوتی طاقت سے وہ ہر ظالم کے مقابلے میں کامیاب رہا ہے۔ اور ہر فاتح کے مقابلے میں دوبارہ اس نے غلبہ حاصل کیا ہے۔ ذاتی طور پر میں اس کتاب کو ایک بے حد قیمتی کتاب سمجھتا ہوں۔ تاہم 19 ویں صدی کے آخر میں جب یہ کتاب چھپی تو عام طور پر مسلم رہنماؤں نے اس کے بارے میں کہا کہ یہ کتاب انگریزی سازش کے تحت لکھی گئی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader