Urdu book · راہِ عمل

ہندوستانی مسلمانوں کی جدید تاریخ

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاد کے میدان سے ہٹا دیا جائے۔ مولانا حمید الدین فراہی (1863-1930) پروفیسر آرنلڈ کے زمانے میں علی گڑھ کالج میں موجود تھے۔ ان کے شاگرد خاص مولانا امین احسن اصلاحی مولانا موصوف کے بارے میں لکھتے ہیں کہ مولانا حمید الدین فراہی جس زمانے میں علی گڑھ میں بی اے کے طالب علم تھے اس زمانے میں علی گڑھ میں فلسفہ کے پروفیسر مشہور انگریز مستشرق ڈاکٹر آرنلڈ تھے۔ مولانا نے ان سے فلسفہ کا درس لیا۔ مگر وہ ان سے خوش نہیں تھے۔ وہ آرنلڈ صاحب کو بھی اسی بساط سیاست کا ایک مہرہ سمجھتے تھے جو انگریزوں نے علی گڑھ میں بچھا رکھی تھی ۔ علی گڑھ کا حلقہ ڈاکٹر آرنلڈ کی کتاب پر پیچنگ آف اسلام کا بڑا مداح تھا۔ لیکن مولانا حمید الدین فراہی اس کتاب کے سخت مخالف تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ یہ کتاب مسلمانوں کے اندر سے روح جہاد ختم کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔ (تفاسیر فراہی) آرنلڈ کی کتاب (پر پیچنگ آف اسلام) کے بارے میں اس قسم کے تاثرات پہلے بھی ظاہر کیے گئے تھے، اور آج بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ مزید حوالے کے لیے ملاحظہ ہو مجلہ تحقیقات اسلامی، علی گڑھ، جولائی ۔ ستمبر 1985، صفحہ 24۔ 2۔ شیخ عبدالحق پراچہ (1979-1920) نے اپنے ایک مطبوعہ مضمون میں بتایا ہے کہ ”جمعیتہ علماء ہند کے اجلاس امروبہ 1930ء سے کچھ روز قبل انگریز وائسرائے کی کونسل کے ذمہ دار ممبر سر میاں فضل حسین مرحوم (1942-1881) نے مولانا احمد سعید دہلوی (م 9591) کو بلا کر پیشکش کی کہ آپ اجلاس امروبہ میں کانگرس کے ساتھ علماء کے اشتراک عمل کی تجویز پاس نہ ہونے دیں۔ میں حکومت برطانیہ سے مقبرہ صفدر جنگ اور اس سے ملحقہ جائیداد بمعہ آراضی جمعیتہ علماء ہند کے علمی (اور تبلیغی) کاموں کے لیے دلوا دوں گا۔ مولانا احمد سعید صاحب (سابق ناظم جمعیتہ علماء ہند) نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں فرمایا: میاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page