ہندوستانی مسلمانوں کی جدید تاریخ
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
صاحب، تمام علماء کرام کیا مجھے بیوقوف نہیں بنائیں گے کہ ہم تو پورے ملک کو حاصل کرنے کی تجویز پاس کر رہے ہیں اور تم صرف ایک مقبرہ، وہ بھی مسلمانوں کی وقف ملکیت، پر فیصلہ کر رہے ہو۔ مولانا کے جواب سے میاں صاحب موصوف کو بہت مایوسی ہوئی ۔ یہ واقعہ مولانا احمد سعید دہلوی نے راقم سے خود بیان کیا تھا۔ “(الجمعیتہ ویکلی، 2 جنوری 1970ء، صفحہ 8) شیخ عبد الحق پراچہ دہلوی (سابقع ناظم اعلیٰ جمعیتہ علماء، دہلی) دوسری جگہ لکھتے ہیں، ”یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت برطانیہ نے اپنے ہتھکنڈوں سے جمعیتہ علماء کو ختم کرنے کی پوری جد و جہد جاری رکھی۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہے، میاں سر فضل حسین مرحوم کے ذریعہ مقبرہ صفدر جنگ اور اس سے متعلقہ جائیداد اور آراضی کی پیشکش کرائی تھی جس کو مولانا احمد سعید صاحب نے ٹھکرا دیا تھا۔ “(الجمعیتہ ویکلی، 30 جنوری 1970، صفحہ 18) اس پیشکش پر اب 60 سال گزر چکے ہیں۔ اگر 60 سالہ تاریخ کی روشنی میں غور کیجیے تو نہایت عبرتناک سبق سامنے آتا ہے۔ ہندوستانی علماء کی سیاسی قربانیوں سے یہاں کے مسلمانوں کو کوئی بھی قابلِ لحاظ چیز حاصل نہ ہوسکی۔ جو لوگ پورے ملک پر قبضے کا خواب دیکھ رہے تھے وہ ملک کے ایک جزئی حصے پر بھی قبضہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ حتیٰ کہ آج ”مقبرہ“ جیسے مقامات بھی ہمارے علماء کی دسترس سے باہر ہیں۔ اب تصور کیجیے کہ مسلم رہنما اگر ڈاکٹر آرنلڈ کی کتاب (پریچنگ آف اسلام) کی اہمیت کو صحیح طور پر محسوس کرتے۔ اور پھر دعوتی جذبے کے تحت اگر 1930ء میں انگریز کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے صفدر جنگ کی جائیداد کو لے لیا گیا ہوتا جس کا مجموعی رقبہ کئی کلومیٹر کے دائرے میں پھیلا ہوا ہے تو کیا ہوتا۔ یہاں ہمارے علماء ایک عظیم الشان تبلیغی ادارہ قائم کر سکتے تھے جس کے سلسلے میں انہیں انگریزوں کی مکمل مدد حاصل ہوتی۔ یہاں تبلیغ و دعوت کی ضرورت کے تمام ادارے وسیع ترین پیمانے پر قائم کیے جا سکتے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader