Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاں آج صفدر جنگ ایئر پورٹ قائم ہے وہاں ایک عظیم الشان قسم کی انٹر نیشنل تبلیغی یونیورسٹی موجود ہوتی۔ ہمارے علماء یہاں سے اولاً ملکی سطح پر اور اس کے بعد عالمی سطح پر تبلیغ و دعوت کی جاری کر سکتے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو 60 سال کے بعد آج ہندوستان کی تاریخ مختلف ہوتی، اور اس کے بعد شاید ساری دنیا کی تاریخ بھی۔ ایک شخص دو مثال 1857ء میں انگریزوں کے خلاف جو بغاوت ہوئی، اس کا ایک معرکہ وہ ہے جو شمالی کے میدان میں لڑا گیا۔ یہاں ایک طرف انگریزی فوج تھی اور دوسری طرف علماء کی جماعت۔ علماء کی اس جماعت کے سربراہ مولانا محمد قاسم نانوتوی (1879-1823) تھے۔ دونوں فریقوں کے درمیان یہ جنگ 1857 میں ہوئی۔ اس جنگ میں انگریزوں کو مکمل کامیابی اور مولانا قاسم نانوتوی کی جماعت کو مکمل ناکامی ہوئی۔ اس مقابلے میں علماء کی ایک تعداد انگریزی فوج کی گولیوں کا نشانہ بنی اور ایک تعداد بھاگ کر منتشر ہو گئی۔ اب تاریخ کا دوسرا منظر دیکھیے ۔ مذکورہ جنگ کے 20 سال بعد 1876 میں شاہجہاں پور میں ایک مناظرہ ہوا۔ اس کا نام "میلہ خدا شناسی" تھا۔ یہ دراصل ایک مذہبی مناظرہ تھا جس میں ہندو، مسلمان اور عیسائی تینوں مذاہب کے علماء شریک ہوئے۔ کہا جاتا کہ یہ مناظرہ انگریزوں کی سازش کے تحت کرایا گیا تھا۔ ہندو اور عیسائی مذہب کے نمائندوں نے اپنے مذہب کی برتری ثابت کرنے کے لیے پر جوش تقریریں کیں۔ اسلام کے بارے میں بھی کئی علماء نے تقریریں کیں ۔ مثلاً مولانا محمود حسن دیوبندی، مولانا رحیم اللہ بجنوری اور مولانا فخر الحسن وغیرہ ۔ آخر میں مولانا محمد قاسم نانوتوی کھڑے ہوئے۔ ان کی تقریر کا موضوع اثبات توحید اور ابطال شرک تھا۔ مولانا نانوتوی کی تقریر اتنی شاندار تھی کہ موافق و مخالف دونوں ہی اس سے مسحور ہو گئے۔ ایسا معلوم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page