Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتا ہے کہ صراط اور سُبُل دراصل اصول اور فروع کی تعبیر ہے۔ صراط سے مراد دین کی اصولی اور اساسی تعلیمات ہیں اور سُبُل سے مراد دین کی جزئی اور فروعی تعلیمات ہیں۔ اس سلسلے میں حسب ذیل آیت کا مطالعہ کیجیے: شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِنُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ۔ (42:13) یعنی، اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کر دیا جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا، یہ کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ ڈالو۔ اصول اور فروع اس آیت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم (اور آپ کی تبعیت میں تمام مسلمانوں) کو حکم دیا گیا ہے کہ جو ”الدین“ پچھلے تمام پیغمبروں کو دیا گیا تھا، وہی تم کو بھی دیا گیا ہے۔ تم اس کی سچی پیروی کرو، اس میں تفریق نہ پیدا کرو۔ مفسرین نے صراحت کی ہے کہ اس آیت میں ”الدین“ سے مراد صرف اساسی دین ہے، نہ کہ جزئیات و فروع سمیت تمام دین۔ کیوں کہ قرآن سے ثابت ہے کہ اساسی دین کے علاوہ شریعت اور منہاج میں ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے درمیان فرق تھا۔ اس لیے تمام پیغمبروں کی مشترک پیروی صرف اساسی اور اصولی دین میں ہو سکتی ہے جو کہ سب کے یہاں ایک رہا ہے، نہ کہ شریعت اور منہاج میں جس میں ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے درمیان فرق پایا جاتا ہے۔ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ سارا زور اور تاکید بنیادی تعلیمات پر دیا جائے۔ کیوں کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page