ایک شخص دو مثال
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتا تھا جیسے کسی نے سننے والوں پر جادو کر دیا ہو۔ مذہب اسلام کی صداقت اس طرح آشکارا ہوئی کہ لوگوں کے سامنے سے پردہ ہٹ گیا۔ مجمع دم بخود تھا اور سننے والے ایسا محسوس کر رہے تھے کہ بیان کرنے والا کوئی عام انسان نہیں بلکہ آسمان سے اترنے والا فرشتہ ہے جو ایسی مؤثر تقریر کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ خود انگریز پادری اسکاٹ نے اس کو سن کر کہا کہ اگر تقریر یوں پر ایمان لایا جاتا تو یہ تقریر ایسی تھی کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ (سوانح قاسمی، جلد 2، صفحہ 441) ان دونوں واقعات کا فرق نہایت سبق آموز ہے۔ وہی مولانا قاسم نانوتوی ہیں۔ وہ 1857 میں انگریزوں مقابلہ کرتے ہیں۔ اس میں انھیں مکمل شکست ہوتی ہے۔ پھر 1876 میں وہی مولانا قاسم نانوتوی عیسائی مشنریوں سے مقابلہ کرتے ہیں تو انھیں اس میں مکمل فتح حاصل ہوتی ہے۔ ایک ہی شخص ہے، اور اس کا انجام دو میدانوں میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، ایک جگہ کامل شکست، اور دوسری جگہ کامل فتح۔ اس فرق کا راز یہ ہے کہ 1857 میں مولانا نانوتوی کا مقابلہ ”حربی انگریزوں“ سے ہوا تھا۔ اور 1876 میں ان کا مقابلہ ”مبلغ انگریزوں“ سے ہوا۔ حربی انگریزوں سے لڑنے کے لیے ہتھیار درکار تھا جو ان کے پاس ضروری مقدار میں موجود نہ تھے۔ اس کے برعکس، مبلغ انگریزوں سے مقابلہ کرنے کے لیے اسلام کا نظریہ کافی تھا جو ان کے پاس مکمل طور پر موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا نانوتوی 1857 میں مکمل طور پر نا کام رہے۔ اور 1876 میں مکمل طور پر کامیاب۔ یہ واقعہ سو سال سے بھی زیادہ پہلے پیش آ چکا ہے۔ مگر مسلم رہنماؤں نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔ وہ بدستور ساری دنیا میں ”حربی انگریزوں“ سے نا کام لڑائی لڑنے میں مشغول ہیں۔ وہ ”مبلغ انگریزوں“ سے مقابلے کے لیے نہیں اٹھتے۔ جس میدان میں ان کے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader