Urdu book · راہِ عمل

ایک شخص دو مثال

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

اصلاح کی طرف صليبی لڑائیاں (crusades) ان جنگی مہموں کو کہا جاتا ہے جو مغربی یورپ کی مسیحی حکومتوں نے مسلم حکومتوں کے خلاف جاری کیں۔ اس سلسلے کی پہلی مہم 1095 ء میں شروع ہوئی اور 1271 ق ء تک وقفہ وقفہ سے جاری رہی۔ ان جنگی مہموں کا مقصد مقدس یروشلم کو بددینوں (مسلمانوں) کے قبضے سے نکالنا تھا۔ مگر مسیحی طاقتوں کو اپنی اس مہم میں مکمل ناکامی ہوئی۔ ایچ جی ویلز نے اپنی کتاب (The Outline of History) میں لکھا ہے کہ پہلی صليبی مہم کے وقت یورپ کے مسیحیوں میں بڑا جوش و خروش تھا۔ مگر تیرہویں صدی کے آخر میں جب انہیں مکمل شکست ہوئی تو اس کے بعد کسی نئی صليبی جنگ چھیڑنے کے لیے مسیحی قوموں کے حوصلے بالکل ختم ہو گئے۔ اس کے بعد یہ حال ہوا کہ اگر کوئی شخص نئی صليبی مہم کا نام لیتا تو ایک عام شہری تعجب سے کہہ اٹھتا کیا، ایک اور صليبی جنگ: "What! another crusade!" (p. 673) تیرہویں صدی کے آخر میں یورپ کی مسیحی قوموں پر مسلمانوں کا ایسا رعب چھا گیا تھا کہ وہ مزید کوئی صليبی مہم شروع کرنے کو تعجب خیز حد تک نا قابل عمل سمجھتے تھے۔ مگر ساڑھے چھ سو سال بعد پہلی عالمی جنگ میں صورت حال بالکل بدل چکی تھی۔ برٹش کمانڈر ایلنبی (E.H.H. Allenby) فتح کرتا ہوا 9 دسمبر 1917 ء کو یروشلم میں داخل ہو گیا۔ اس نے بیت المقدس کے اندر کھڑے ہو کر کہا کہ آج صليبی جنگیں ختم ہو گئیں۔ دوسری طرف فرینچ جنرل ہنری گورو( Henri Gouraud) نے شام کو فتح کر لیا۔ 1920 ء میں وہ فاتحانہ طور پر دمشق میں داخل ہو گیا۔ اس نے صلاح الدین ایوبی کی قبر پر پاؤں رکھ کر کہا کہ صلاح الدین، دیکھو آخر کار ہم واپس آگئے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page