ایک شخص دو مثال
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
"Saladin, we have returned" یہ صورت حال تا دم تحریر بدستور باقی ہے۔ اس دوران بے شمار ہنگامہ خیز کوششیں ہوئی ہیں۔ ان کوششوں میں بے شمار جانی و مالی نقصان ہوا ہے، مگر اصل صورت حال میں اب تک کوئی تبدیلی نہ ہوسکی۔ صلیبی مقابلہ جو تیر ہویں صدی میں مسلمانوں کے حق میں ہوا تھا، وہ بیسویں صدی میں بظاہر مسیحیوں کے حق میں ختم ہو چکا ہے۔ پچھلے 70 سال کے دوران بار بار یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ تیرہویں صدی عیسوی میں مسلمان اس قدر غالب تھے، اور بیسویں صدی میں وہ اتنے زیادہ مغلوب ہو گئے۔ اس کے جواب میں تقریروں اور مضامین اور کتابوں کا ایک ناقابل شمار انبار جمع ہو چکا ہے۔ مگر ان سب کا خلاصہ صرف ایک ہے۔ ہر لکھنے اور بولنے والا صرف یہ انکشاف کر رہا ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال بچھا ہوا ہے، اور انہیں سازشوں نے مسلمانوں کو نا کام بنا رکھا ہے۔ یہ تو جبہ لغویت کی حد تک غلط ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ”تیر ھویں صدی“ میں وہ تمام سازشیں مزید شدت کے ساتھ جاری تھیں جن کا حوالہ آج مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود ماضی کے مسلمانوں کو بے مثال کامیابی حاصل ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا مقابلے کی دنیا ہے، یہاں ہمیشہ ایک کو دوسرے کی طرف سے چیلنج پیش آتا ہے۔ یہاں ہمیشہ ایک قوم کے خلاف دوسری قوم سازشیں کرتی ہے۔ یہ صورت حال ابتداء انسانیت کے ہابیل و قابیل سے جاری ہے، اور آخر انسانیت کے مسیح اور دجال تک جاری رہے گی، وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اس دنیا میں مخالفتوں اور سازشوں کے باوجود کامیابی حاصل کرنی پڑتی ہے۔ جو لوگ اس ”باوجود“ کے چیلنج کا سامنا کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader