Urdu book · راہِ عمل

ایک شخص دو مثال

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

ذرا بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔“(60-19:59) ’’کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں اور اس حق کے آگے جو نازل ہوا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اس کی موت کے بعد۔ ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان کر دی ہیں تا کہ تم سمجھو۔“(57:16-17) ان آیتوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قوموں پر جب لمبی مدت گزر جاتی ہے، تو ان کے افراد میں قساوت (بے حسی) آ جاتی ہے۔ وہ دین کی حقیقت کھو دیتے ہیں۔ ان کے اسلاف اگر حقائق پر جینے والے تھے، تو ان کی بعد کی نسلیں خوش فہمیوں کی بنیاد پر زندہ ہوتی ہیں۔ یہ بعد کے لوگ شکل دین کے اعتبار سے زندہ نظر آتے ہیں، مگر وہ روحِ دین کے اعتبار سے مردہ ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس مرحلے پر پہنچنے کے بعد ’’مصلحین امت‘‘ کو کیا کرنا چاہیے، اس کو ایک تمثیل کے ذریعے بتایا گیا ہے۔ یہ زمین کی تمثیل ہے۔ زمین اگر مردہ اور بنجر ہوگئی ہو تو کسان کیا کرتا ہے۔ کسان یہ نہیں کرتا کہ جس حالت میں بھی وہ زمین ہے، اسی حالت میں لا کر وہاں دانہ بکھیر دے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اس طرح دانہ بکھیر دینے سے یہاں فصل نہیں اگے گی۔ کسان ایسی زمین کے لیے پانی کا انتظام کرتا ہے۔ وہ اس کو جوتتا ہے۔ اس کے جھاڑ جھنکار صاف کرتا ہے۔ اس میں کھاد ڈالتا ہے۔ اس طرح جب زمین تیار ہو جاتی ہے، تو وہ اس میں بیج ڈالتا ہے۔ اس کے بعد نتیجہ سامنے آتا ہے اور جہاں پہلے سوکھی زمین تھی، وہاں لہلہاتی ہوئی فصل نظر آنے لگتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page