ایک شخص دو مثال
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی معاملہ اس قوم کا ہے جو ’’طولِ امل‘‘ کے نتیجے میں مردہ ہو گئی ہو۔ ایسی قوم میں اصلاح کا کام صرف بیج ڈال کر نہیں ہو سکتا۔ بلکہ زمین تیار کرنے سے وہاں اصلاحی کام کا آغاز کرنا ہوگا۔ کسی مردہ قوم کا حال اگر بظاہر مایوس کن ہو تو اس سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ خدا کی دنیا میں زمین جس طرح مردہ سے زندہ ہو جاتی ہے، اسی طرح یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ بے جان قوم دوبارہ ایک جاندار قوم بن جائے۔ بشرطیکہ اس کے اوپر وہ کام کیا جائے جو ایک بے جان قوم کو جاندار بنانے کے لیے کرنا ضروری ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل معاملہ یہ تھا کہ وہ طولِ امل کے نتیجے میں ایک بے جان قوم بن چکے تھے۔ ان کی حیثیت اب ایک مردہ زمین کی ہو چکی تھی۔ اس صورتِ حال کا تقاضا تھا کہ مسلمانوں کے درمیان کام کا آغاز ’’اصلاح‘‘ سے کیا جائے۔ مگر موجودہ زمانے میں اٹھنے والے تمام رہنماؤں نے اس کے بجائے یہ کیا کہ کام کا آغاز ’’اقدام‘‘ سے کیا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے بنجر زمین میں زراعت کا آغاز پودا لگانے سے کیا جائے۔ چنانچہ مسلم رہنماؤں کی تمام ہنگامہ خیز تحریکیں مکمل طور پر ناکامی و بربادی پر ختم ہو کر رہ گئیں۔ موجودہ زمانے میں اصلاحِ امت کے لیے جو کام مطلوب ہے وہ بیک وقت گہری دانائی بھی چاہتا ہے اور اسی کے ساتھ مستقل عمل بھی۔ اس کام کو مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔ 1۔ پہلا کام تجدیدِ ایمان ہے۔ تجدیدِ ایمان سے مراد ادائینگی کلمہ کی تصحیح نہیں ہے، بلکہ کلمہ کی بنیاد پر ایک مکمل شعوری انقلاب ہے۔ موجودہ مسلمان جو صرف ’’کلمہ گو‘‘ مسلمان ہیں، انہیں اس سے اٹھا کر ’’کلمہ فہم‘‘ مسلمان بنانا ہے۔ ان کا ایمان جو الفاظ کی سطح پر ٹھہر گیا ہے، اس کو معانی کی سطح پر پہنچانا ہے۔ 2۔ یہ کام لازماً تنقید کے اسلوب میں کام کرنا ہوگا۔ مثلاً جو لوگ ’’اکابر‘‘ کی سطح پر اٹکے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader