ایک شخص دو مثال
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے ہیں، انہیں خدا کی سطح پر پہنچانا ہوگا۔ جو لوگ اسلام اور غیر اسلام دونوں کو اپنے ذہن میں جمع کیے ہوئے ہیں، انہیں اسلام کے لیے یکسو کرنا ہوگا۔ جو لوگ صحیح اور غلط کی تمیز سے محروم ہیں، ان کے اندر صحیح اور غلط کی تمیز پیدا کرنا ہوگی۔ جن لوگوں کا اسلام برف کی طرح جامد ہو چکا ہے، اس کو توڑ کر اس کو رواں سیلاب بنانا ہوگا۔ یہ تمام کام تنقید کے طالب ہیں۔ ان میں سے کوئی کام بھی تنقید کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک تنقید نہ کی جائے، ذہنوں میں ہلچل پیدا نہیں ہوتی۔ ”ایک“ کو چھوڑنے اور ”دوسرے“ کو اختیار کرنے کا مرحلہ نہیں آتا۔ اسلام وہی ہے جو آدمی کو ذاتی دریافت کے طور پر ملے، اور ذاتی دریافت والا اسلام تنقیدی انداز دعوت کے بغیر کسی کو ملنا ممکن نہیں۔ 3۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ مسلمانوں کو ان نام نہاد سرگرمیوں سے ہٹایا جائے جو الٹی ذہنی تربیت کرنے والی ہیں۔ جو آدمی کو جذباتی بناتی ہیں۔ جو آدمی کو حقیقت پسندی سے دور کر دیتی ہیں۔ جو قدیم ذہن کو بدستور پختہ کرتی چلی جاتی ہیں۔ جو آدمی کو خوش عقیدگی کے خول سے باہر نکلنے نہیں دیتیں۔ یہ کام بھی بہر حال کرنا ہوگا خواہ ابتداءً اس تحریک کے گرد عوام کی بھیڑ جمع نہ ہو سکے۔ 4۔ مسلمانوں کے ایمان کو اگر شعوری انقلاب کے مرحلے تک پہنچانا ہے تو ان کو ان سرگرمیوں سے روکنا ہوگا جن کو وہ محض بے شعوری کے تحت جاری کیے ہوئے ہیں۔ مثلاً دوسری قوموں سے قومی، سیاسی اور مادی لڑائی۔ جلسہ جلوس کی دھوم، اسلام کے نام پر جشن کے ہنگامے برپا کرنا۔ اپنے مسائل کو اپنی کوتاہی کے خانے میں ڈالنے کے بجائے دوسروں کی سازش اور ظلم کے خانے میں ڈالنا۔ مسلمانوں کو جب تک ان غیر حقیقی سرگرمیوں سے روکا نہ جائے، ان کے اندر کوئی حقیقی مزاج پیدا ہونا ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader