Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

5۔ وہ چیز جس کو ’’عملی پروگرام‘‘ یا عملی اقدام کہا جاتا ہے، وہ اپنے وقت پر ضروری اور مفید ہے، مگر وقت سے پہلے، جب کہ ابھی تحریک ابتدائی فکری مرحلے میں ہو، ایسا کوئی اقدام صرف نقصان اور ہلاکت پر ختم ہوتا ہے۔ مثلاً آج کل ہر سطحی لیڈر ایک جذباتی اشتو پر مسلمانوں کو جمع کرتا ہے اور ان کا جلوس نکالتا ہے۔ اگر اس کو اس فعل عبث سے منع کیا جائے تو وہ کہے گا کہ یہ جمہوریت کا زمانہ ہے۔ اور جمہوریت کے نظام میں کسی مقصد کو حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے۔ مگر یہ جواب احمقانہ حد تک لغو ہے۔ اس کی غلطی اس وقت واضح ہو جاتی ہے جب کہ مسلمانوں کا جلوس کچھ دور چلنے کے بعد عوام سے یا پولیس سے لڑ جاتا ہے اور تشدد پر اتر آتا ہے۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ حالت میں مسلمانوں کا جلوس نکالنا غلط تھا۔ کیوں کہ جمہوریت کے نظام میں پُرامن مظاہرہ عوام کا حق ہے، مگر متشدد (پر تشدد) مظاہرہ ایک قانونی جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں سطحی لیڈر دوبارہ کہہ دے گا کہ مسلمانوں کا تشدد بطورِ ردِ عمل تھا۔ مگر یہ جواب دوبارہ صرف لیڈر کی جہالت کا ثبوت ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ اشتعال کے اسباب پیش آتے ہیں۔ اس قسم کے اسباب سے کوئی ملک یا کوئی سماج کبھی خالی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اس دنیا میں ’’مظاہرہ‘‘ صرف ان لوگوں کے کرنے کا کام ہے جو اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں، جو تشدد کے اسباب پیش آنے کے باوجود پُرامن بنے رہیں۔ چونکہ موجودہ مسلمان ابھی اس شعوری سطح پر نہیں ہیں، اس لیے ان کو مظاہرے کی سیاست میں استعمال کرنے کا وقت بھی ابھی نہیں آیا۔ اصل کمی موجودہ زمانے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام کے پاس آئیڈیالوجی ہے، مگر اسلام کے پاس آج مردانِ کار نہیں۔ اس صدی کے آخر تک ساری دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page